Voter Roll Inquiry
حیدرآباد:۔ حیدرآباد ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی (ڈی سی سی ) کے صدر سید خالد سیف اللہ نے پیر کے روز الیکشن کمیشن آف انڈیا اور تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سے خصوصی نظرثانی مہم کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ووٹر اندراج اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن فارم مجاز انتخابی حکام کے بجائے سیاسی کارکنوں کے ذریعے سنبھالے جا رہے ہیں۔
سید خالد سیف اللہ کے مطابق چارمینار، بہادرپورہ اور چندرائن گٹہ اسمبلی حلقوں سے موصول ہونے والی شکایات نے ووٹر نظرثانی کے عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر اندراج فارم حساس انتخابی معلومات پر مشتمل ہوتے ہیں، اس لیے انہیں صرف مجاز انتخابی حکام ہی سنبھال سکتے ہیں۔
انہوں نے چارمینار اسمبلی حلقے کے بوتھ نمبر 29 کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متعلقہ بوتھ لیول آفیسر نے کانگریس نمائندوں کو بتایا کہ ووٹر اندراج فارم ایک مقامی مجلس اتحاد المسلمین رہنما کے پاس موجود ہیں۔ ان کے مطابق جب کانگریس کارکن تصدیق کے لیے مذکورہ رہنما کی رہائش گاہ پہنچے تو ان کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی، جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔
ووٹر نظرثانی عمل پر سوالات | Voter Roll Inquiry
سید خالد سیف اللہ نے دعویٰ کیا کہ چارمینار کے بوتھ نمبر 31 اور 32 سے بھی اسی نوعیت کی شکایات موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق بعض بوتھ لیول آفیسرز نے لازمی گھر گھر جاکر تصدیقی عمل انجام نہیں دیا، جبکہ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی کارکن اس عمل میں شریک رہے۔
انہوں نے بوتھ نمبر 219 کا حوالہ دیتے ہوئے بھی دعویٰ کیا کہ متعلقہ بوتھ لیول ایجنٹ نے فون کالز کا جواب نہیں دیا، بلکہ ایک شخص اصغر نے کال وصول کرتے ہوئے کانگریس نمائندوں کو پاکیزہ ہوٹل میں اپنے دفتر آنے کے لیے کہا۔ سید خالد سیف اللہ نے الزام لگایا کہ مذکورہ شخص مجلس اتحاد المسلمین سے وابستہ ہے۔
تمام شکایات کی جانچ کا مطالبہ | Voter Roll Inquiry
کانگریس رہنما نے چندرائن گٹہ اور بہادرپورہ کے بوتھ نمبر 102، 101، 109، 113، 117، 121، 170، 180، 203 اور 301 سے متعلق بھی شکایات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض بوتھ لیول آفیسرز نے گھر گھر جاکر تصدیق سے انکار کیا، جبکہ ان کے موبائل فون پر مجلس اتحاد المسلمین کے رہنماؤں نے جواب دیا۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق بوتھ لیول آفیسرز کو خود گھر گھر جاکر تصدیق کرنی چاہیے اور تمام انتخابی ریکارڈ بھی انہی کی تحویل میں رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی کارکنوں یا نجی افراد کو ووٹر فارم جمع کرنے، تقسیم کرنے یا اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
چنانچہ سید خالد سیف اللہ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا، تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر اور ضلع الیکشن آفیسر، حیدرآباد سے مطالبہ کیا کہ تمام شکایات کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے، سرکاری تحویل سے باہر موجود انتخابی مواد واپس حاصل کیا جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ ووٹر فارم مبینہ طور پر سیاسی کارکنوں تک کیسے پہنچے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی بوتھ لیول آفیسر، بوتھ لیول ایجنٹ یا سیاسی کارکن ووٹر نظرثانی کے عمل میں مداخلت، ووٹر معلومات کو غیر مجاز طور پر سنبھالنے یا ووٹروں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا ذمہ دار پایا جائے تو اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ آزاد اور غیر جانبدار انتخابی عمل پر عوامی اعتماد برقرار رکھنا ضروری ہے اور حیدرآباد ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی آئندہ بھی اس عمل کی نگرانی جاری رکھتے ہوئے ضرورت پڑنے پر مزید شکایات پیش کرے گی۔
