تلنگانہ اردو اکیڈمی اراضی لیز منسوخ | Urdu Academy
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت نے اردو اکیڈمی کی اراضی لیز پر دینے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ حکومت نے جی او-23 جاری کرکے مجوزہ لیز کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ اقلیتی رہنماؤں کے مسلسل احتجاج کے بعد کیا گیا۔ مزید برآں، سیاسی دباؤ بڑھنے کے بعد حکومت نے اپنا سابقہ مؤقف تبدیل کیا۔
حکومت نے پہلے اس اراضی کو طویل مدتی لیز کے لیے زیر غور رکھا تھا۔ تاہم، اس فیصلے پر مختلف اقلیتی تنظیموں نے سخت اعتراض کیا۔
لیز تجویز پر تنازع | Urdu Academy
حکام نے سروے نمبر 29 میں موجود 1.04 ایکڑ اراضی لیز پر دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ اراضی درگاہ حسین شاہ ولی گاؤں میں واقع ہے۔ یہ علاقہ ضلع رنگاریڈی کے سرلنگم پلی منڈل میں شامل ہے۔
حکومت نے یہ اراضی 30 سال کے لیے چنئی کی این این انفرا کمپنی کو دینے کی تجویز دی تھی۔ اس کے علاوہ، متعلقہ محکمے نے اس منصوبے پر ابتدائی کارروائی بھی شروع کر دی تھی۔
یہ معاملہ 16 جولائی کو جی او-20 جاری ہونے کے بعد سامنے آیا۔ بعد ازاں، نمستے تلنگانہ کی رپورٹ کے بعد اس معاملے نے عوامی توجہ حاصل کی۔
اقلیتی رہنماؤں کا احتجاج | Urdu Academy
اقلیتی رہنماؤں نے مجوزہ لیز کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے چیف سیکریٹری اور محکمہ اقلیتی بہبود کے حکام سے بھی ملاقات کی۔ مزید برآں، انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
حکومت نے بعد میں جی او-22 جاری کیا۔ اس حکم کے ذریعے لیز کے عمل کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ تاہم، اقلیتی رہنما اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہوئے۔
انہوں نے مکمل منسوخی کا مطالبہ جاری رکھا۔ لہٰذا، حکومت پر دباؤ مسلسل بڑھتا رہا۔
جی او-23 سے لیز مکمل منسوخ | Urdu Academy
آخرکار حکومت نے جی او-23 جاری کر دیا۔ یوں، اردو اکیڈمی کی اراضی لیز پر دینے کی تجویز مکمل طور پر ختم کر دی گئی۔
ریاستی مائناریٹی ایسوسی ایشن کے صدر یعقوب پاشا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مساجد، وقف، اردو اکیڈمی اور مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے وابستہ اراضی کا تحفظ کرنا چاہیے۔
سابق ریاستی وقف بورڈ رکن وحید احمد نے بھی حکومتی فیصلے کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور مسلم رہنماؤں کے احتجاج نے حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا۔
تین سرکاری احکامات سے مؤقف تبدیل | Urdu Academy
حکومت نے اس معاملے میں تین مختلف سرکاری احکامات جاری کیے۔ پہلے جی او-20 کے ذریعے لیز کی تجویز پیش کی گئی۔ بعد ازاں، جی او-22 کے ذریعے اس پر عارضی روک لگائی گئی۔
آخر میں جی او-23 کے ذریعے پوری تجویز منسوخ کر دی گئی۔ چنانچہ، اردو اکیڈمی کی 1.04 ایکڑ اراضی این این انفرا کمپنی کو 30 سال کے لیے لیز پر نہیں دی جائے گی۔
حکومت نے مسلسل اعتراضات کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا۔ یوں، اردو اکیڈمی کی اراضی بدستور سرکاری تحویل میں برقرار رہے گی۔
