نئی پاور کمپنی پر ہریش راؤ کے سوالات | Telangana Power Restructuring
حیدرآباد:۔ بی آر ایس کے رہنما اور سابق وزیر ہریش راؤ نے جی او 17 پر تنقید کی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے اس حکم کے ذریعے نئی پاور کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کمپنی کا نام تلنگانہ رعیتو پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ (ٹی جی آر پی ڈی سی ایل) ہے۔ ہریش راؤ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے کسانوں کی مفت بجلی متاثر ہوسکتی ہے۔
جی او 17 کے تحت کئی اہم ذمہ داریاں نئی کمپنی کو منتقل ہوں گی۔ ان میں ملازمین، بجلی کی تقسیم کا نیٹ ورک، اثاثے اور واجبات شامل ہیں۔ بجلی خریداری کے معاہدے بھی نئی کمپنی کو منتقل کیے جائیں گے۔ تاہم، ہریش راؤ نے الگ کمپنی قائم کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے اس کے مالی وسائل، عملے اور بجلی کی مسلسل فراہمی سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔
ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ حکومت نے مختلف حلقوں کے اعتراضات نظرانداز کیے۔ ان میں بی آر ایس، دیگر سیاسی جماعتیں، ملازمین کی یونینیں اور توانائی کے ماہرین شامل ہیں۔ سماجی کارکنوں اور کسانوں کے خدشات کو بھی نظرانداز کرنے کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر زرعی، گھریلو اور صنعتی صارفین کو قابل اعتماد بجلی فراہم نہ کرنے کی تنقید کی۔
نئی کمپنی کی صلاحیت اور انتظامی اخراجات | Telangana Power Restructuring
ہریش راؤ کے مطابق، نئی کمپنی موجودہ مسائل حل نہیں کرسکے گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس تبدیلی سے کسانوں کو کیا فائدہ ہوگا۔ ساتھ ہی، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں مفت بجلی محدود کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے ٹرانسفارمروں کے بار بار جلنے کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا سوال تھا کہ نئی کمپنی ایسی خرابیوں سے کیسے نمٹے گی۔ انہوں نے حکومت سے مفت اور بلا تعطل بجلی کی ضمانت مانگی۔
مجوزہ کمپنی کے تحت 3,060,861 زرعی بجلی کنکشن آئیں گے۔ اس کے علاوہ، 512 لفٹ اریگیشن اسکیمیں بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہوں گی۔ حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ اور مشن بھاگیرتا سے متعلق کنکشن بھی شامل کیے جائیں گے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار میں مجموعی کنکشنوں کی تعداد 3,062,853 بتائی گئی ہے۔
ہریش راؤ نے تقریباً 2,000 ملازمین کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔ کمپنی کو 615,651 زرعی ٹرانسفارمروں کی نگرانی بھی کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ، 251,000 سرکٹ کلومیٹر طویل زرعی کم وولٹیج لائنیں بھی اس کے دائرہ کار میں ہوں گی۔ انہوں نے پوچھا کہ اتنا محدود عملہ اس نیٹ ورک کی دیکھ بھال کیسے کرے گا۔
انہوں نے کمپنی کے قیام اور انتظامی اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ ان کے مطابق، حکومت کو مطلوبہ وسائل اور مالی پائیداری واضح کرنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر واضح مالی منصوبہ بندی سے نظام کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
بجلی کی تقسیم اور مفت فراہمی پر خدشات | Telangana Power Restructuring
ہریش راؤ نے بجلی کے مختلف ذرائع کی تقسیم پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق، تلنگانہ کے موجودہ بجلی نظام میں تھرمل توانائی کا حصہ 53.28 فیصد ہے۔ شمسی توانائی کا حصہ 35.31 فیصد بتایا گیا ہے۔ اس کے برعکس، نئی کمپنی کو مبینہ طور پر 25 فیصد تھرمل اور 58 فیصد شمسی بجلی ملے گی۔ انہیں مکمل ہائیڈل بجلی بھی مختص کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی رات کے وقت طلب پوری نہیں کرسکتی۔ مزید برآں، 2,325 میگاواٹ ہائیڈل بجلی سال میں صرف 3 سے 4 ماہ تکنیکی طور پر دستیاب ہوسکتی ہے۔ اس لیے انہوں نے باقی مہینوں میں زرعی صارفین کو بجلی فراہم کرنے کے طریقے پر سوال اٹھایا۔
بی آر ایس رہنما نے قرضوں اور واجبات کی تقسیم پر بھی وضاحت طلب کی۔ انہوں نے نئی کمپنی کی مالی حیثیت سے متعلق تفصیلات مانگیں۔ ان کے مطابق، منتقلی کے نتیجے میں اضافی اخراجات پیدا ہوئے تو کسان متاثر ہوسکتے ہیں۔
ہریش راؤ نے مفت بجلی جاری رکھنے کی تحریری ضمانت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زرعی صارفین کو 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ ساتھ ہی، اثاثوں، قرضوں اور ملازمین کی منتقلی میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے حکومت سے عملے، دیکھ بھال اور بجلی کی تقسیم سے متعلق خدشات دور کرنے کو کہا۔ مالی پائیداری پر بھی واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ ہریش راؤ نے خبردار کیا کہ اگر اعتراضات دور نہ ہوئے تو جی او 17 فوری طور پر واپس لیا جائے۔
