تلنگانہ پولیس کے سکیورٹی اقدامات اور کامیابیاں | Telangana Police Security
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس سی وی آنند نے ریاست میں سکیورٹی اقدامات، پولیس کارروائیوں اور مستقبل کے منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے حیدرآباد میں سدرن ریجنل پولیس کوآرڈینیشن کمیٹی (ایس آر پی سی سی) کے اجلاس میں بریفنگ دی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
انٹیگریٹیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (آئی سی سی سی) میں منعقدہ اجلاس کے دوران انسداد انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ اور سائبر جرائم پر توجہ دی گئی۔ سی وی آنند نے تلنگانہ گری ہاؤنڈز کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس فورس نے ملک بھر میں نمایاں شناخت قائم کی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ریاستی سکیورٹی نظام میں اس کے اہم کردار کی وضاحت کی۔
ڈی جی پی نے مختلف خطرات سے نمٹنے کے لیے قائم خصوصی یونٹس کی تفصیلات بھی بتائیں۔ حیدرآباد میں ماضی کے بم دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے آرگنائزیشن فار کاؤنٹر ٹیررسٹ آپریشنز (آکٹوپس) قائم کی گئی۔ اس کے علاوہ، منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے خلاف کارروائیوں کے لیے ایگل فورس تشکیل دی گئی۔
دہشت گردی اور منشیات کے خلاف خصوصی یونٹس | Telangana Police Security
سی وی آنند نے بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے منشیات پر قابو پانے کے لیے تلنگانہ پولیس کی کوششوں کو تسلیم کیا ہے۔ ان کے مطابق، وزارت نے اس سلسلے میں پولیس کو اعزازات بھی دیے۔ انہوں نے اس اعتراف کو ریاست کی انسداد منشیات کارروائیوں کی اہم کامیابی قرار دیا۔
سائبر جرائم کی بدلتی نوعیت سے نمٹنے کے لیے تلنگانہ پولیس نے سائبر سکیورٹی بیورو قائم کیا۔ یہ یونٹ نئے ڈیجیٹل خطرات کی روک تھام پر کام کرتا ہے۔ اسی دوران، پولیس محکمہ بدلتے سکیورٹی چیلنجز کے مطابق اپنی کارروائیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
ڈی جی پی نے ریاست میں نکسل سرگرمیوں میں نمایاں کمی کی اطلاع بھی دی۔ ان کے مطابق، تلنگانہ حال ہی میں ’’زیرو نکسل ریاست‘‘ کی حیثیت تک پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 824 نکسلائٹس ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے پولیس کے حوالے 302 ہتھیار کیے ہیں۔
قدرتی آفات، ٹیکنالوجی اور خواتین کا تحفظ | Telangana Police Security
سی وی آنند نے قدرتی آفات کے دوران آئی سی سی سی کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق، مرکز نے ہنگامی حالات میں مؤثر عوامی خدمات فراہم کرنے میں حکام کی مدد کی۔ اس طرح، یہ نظام سکیورٹی کے ساتھ ساتھ ہنگامی انتظامات میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پولیس محکمہ اپنے اہلکاروں کے زیر استعمال ایک ایپلی کیشن کو بھی مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔ اس کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے کارروائیوں کی کارکردگی بڑھانا ہے۔ مزید برآں، ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس ڈیجیٹل ذرائع اپنا کر کام اور باہمی تال میل کو مضبوط بنا رہی ہے۔
انہوں نے خواتین کے تحفظ کو بھی اہم ترجیح قرار دیا۔ محکمہ نے خواتین کی حفاظت کے لیے مخصوص اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، پولیس ریاست بھر میں امن و قانون برقرار رکھنے پر توجہ دے رہی ہے۔
اجلاس میں ڈی جی پی کی بریفنگ میں خصوصی سکیورٹی یونٹس، انسداد نکسل کارروائیوں، منشیات کے خلاف نفاذ، سائبر جرائم کی روک تھام، قدرتی آفات سے نمٹنے اور ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے موضوعات شامل تھے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے حیدرآباد کے آئی سی سی سی میں منعقدہ ایس آر پی سی سی اجلاس میں شرکت کی۔
