بی آر ایس کا وزیراعلیٰ کی مکمل تفصیلات دینے کا مطالبہ | Revanth Visit
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے رکن قانون ساز کونسل داسوجو سراون نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے مجوزہ امریکی دورے پر وضاحت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی منظوری نہ دینے کی اصل وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ مزید برآں، دونوں حکومتیں مکمل تفصیلات جاری کریں۔
انہوں نے وزارت خارجہ کی جانب سے دورے کو “نامناسب” قرار دینے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ صرف یہ لفظ کافی نہیں ہے۔ لہٰذا وزارت کو واضح کرنا چاہیے کہ اعتراض کس بات پر کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت یہ بھی بتائے کہ دورے کے کس پروگرام یا ملاقات نے ضابطوں کی خلاف ورزی کی۔ اس کے علاوہ تمام متعلقہ معلومات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔
مجوزہ دورے کے پروگرام پر سوالات | Revanth Visit
داسوجو سراون نے 27 اگست سے 30 اگست تک کے مجوزہ دورے کی مکمل تفصیل جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملاقاتوں کی فہرست شائع کی جائے۔ مزید برآں، دعوت دینے والے افراد اور اداروں کے نام بھی ظاہر کیے جائیں۔
انہوں نے ان اطلاعات پر بھی سوال اٹھایا جن میں نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی سے ممکنہ ملاقات کا ذکر کیا گیا۔ تاہم انہوں نے پوچھا کہ اگر یہی وجہ تھی تو سرکاری پروگرام میں اس ملاقات کا اندراج کیوں نہیں تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ میئر کا نام سیاسی پردے کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ لہٰذا اصل وجوہات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔
2024 اور 2026 کے فیصلوں کا موازنہ | Revanth Visit
داسوجو سراون نے کہا کہ مرکز نے 2024 میں ریونت ریڈی کے امریکی دورے کی منظوری دی تھی۔ تاہم 2026 میں سیاسی منظوری کیوں نہیں دی گئی، اس کی وضاحت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فیصلوں میں فرق کی معقول وجہ سامنے آنی چاہیے۔ اس کے علاوہ عوام کو بتایا جائے کہ حالات میں کیا تبدیلی آئی۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سے بھی دورے کا اصل مقصد واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ بی آر ایس قائد نے سوال کیا کہ کیا یہ دورہ صرف سرمایہ کاری لانے کے لیے تھا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ آیا اس کا کسی ذاتی سرمایہ کاری یا کاروباری مفاد سے کوئی تعلق تھا۔
تاہم داسوجو سراون نے اپنے بیان میں اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے اس معاملے کو وضاحت طلب سوال کے طور پر اٹھایا۔
شفافیت کا مطالبہ برقرار | Revanth Visit
داسوجو سراون نے کہا کہ “نامناسب” کہنا وضاحت کا متبادل نہیں بن سکتا۔ مزید برآں، مرکز کو سیاسی منظوری مسترد کرنے کی مکمل بنیاد بیان کرنی چاہیے۔
انہوں نے تلنگانہ حکومت سے بھی دورے کا مقصد، پروگرام اور تمام تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ لہٰذا عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کن سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی غیر اعلانیہ ملاقات کو بھی پروگرام میں شامل کیا گیا تھا تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ متعلقہ اداروں اور دعوت دینے والوں کی شناخت بھی ظاہر کی جائے۔
داسوجو سراون نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے غیر ملکی دورے سے متعلق ہر سرکاری فیصلے میں شفافیت ضروری ہے۔ یوں تلنگانہ کے عوام تمام حقائق جاننے کے حق دار ہیں۔
