حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ہندوستان کو دفاعی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی تیاری میں عالمی قائد بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے دفاعی صنعتوں کے سربراہوں سے اس مقصد کے حصول میں تعاون کی اپیل کی۔ ساتھ ہی تلنگانہ کے لیے نئی ایرو اسپیس اینڈ ڈیفنس پالیسی 2.0 جلد متعارف کرانے کا اعلان کیا۔
چیف منسٹر نے کہا کہ نئی پالیسی تلنگانہ رائزنگ 2047 کے طویل مدتی ترقیاتی منصوبے کا حصہ ہوگی۔ اس کے ذریعے دفاعی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت ریاست کو ملک کا سب سے بڑا دفاعی صنعتی مرکز بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ریونت ریڈی نے حیدرآباد کے تاریخی تاج فلک نما پیالیس میں رکشا ایکسپو 2026 کے تعارفی پروگرام کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نمائش کے لوگو کی بھی رونمائی کی۔ ریاستی حکومت نے یہ تقریب انویسٹ تلنگانہ گلوبل سمٹ 2026 کے سلسلے میں منعقد کی۔
پروگرام میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا اور وزیر کیپٹن این اتم کمار ریڈی نے شرکت کی۔ وزیر صنعت ڈی سریدھر بابو بھی موجود تھے۔ ان کے علاوہ چیف سکریٹری سنجے جاجو اور محکمہ داخلہ کی پرنسپل سکریٹری شکھا گوئل نے بھی شرکت کی۔
چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوستان کو دفاعی ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک کو جنگی ٹیکنالوجی کی درآمد پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ اس کے بجائے جدید دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والا ملک بننا ضروری ہے۔
تلنگانہ کو ملک کا سب سے بڑا دفاعی صنعتی مرکز بنانے کا منصوبہ | Raksha Expo
ریونت ریڈی نے کہا کہ ہندوستان کی دفاعی ترقی میں تلنگانہ کا اہم کردار ہوگا۔ ریاست نے اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ تاہم ابھی مزید بڑے اہداف حاصل کرنا باقی ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ کو ملک کا سب سے بڑا دفاعی صنعتی مرکز بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ اس مقصد کے لیے دفاعی کمپنیوں اور صنعتی اداروں سے تعاون طلب کیا گیا۔ ان کے مطابق ریاست میں جدید دفاعی مصنوعات کی تیاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
چیف منسٹر نے صنعت کاروں سے ریاست میں اپنی مجوزہ سرمایہ کاری کو 2 گنا کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کمپنیوں سے اپنی ضروریات حکومت کے سامنے پیش کرنے کو کہا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو مطلوبہ تعاون فراہم کرے گی۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ صنعتی توسیع کے لیے سازگار ماحول تیار کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے سرمایہ کاری کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے خلائی ٹیکنالوجی اور ایرو اسپیس کو ترقی کے اہم شعبے قرار دیا۔ اس کے علاوہ سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ظاہر کی۔
چیف منسٹر نے کہا کہ جدید دفاعی صنعت میں ان شعبوں کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چنانچہ تلنگانہ کو نئی ٹیکنالوجی کی تیاری اور استعمال میں آگے بڑھنا ہوگا۔
تلنگانہ رائزنگ 2047 کے تحت 3 ٹریلین ڈالر معیشت کا ہدف | Raksha Expo
چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے تلنگانہ رائزنگ 2047 کے طویل مدتی معاشی منصوبے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے گزشتہ سال اس منصوبے کا ویژن دستاویز جاری کیا تھا۔ اس کے تحت تلنگانہ کو ملک کے اہم صنعتی اور معاشی مراکز میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت 2034 تک تلنگانہ کی معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ 2047 تک ریاست کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے صنعتی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری میں اضافے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
چیف منسٹر کے مطابق ہندوستان کی مجموعی آبادی میں تلنگانہ کا حصہ 2.5 فیصد سے زیادہ ہے۔ تاہم ریاست قومی مجموعی گھریلو پیداوار میں 5 فیصد حصہ ادا کرتی ہے۔ حکومت 2047 تک اس حصے کو بڑھا کر 10 فیصد کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی مصنوعات کی تیاری اور ایرو اسپیس صنعتیں ان معاشی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس لیے حکومت جدید صنعتی منصوبوں اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دے رہی ہے۔
مزید برآں، ریونت ریڈی نے توقع ظاہر کی کہ رکشا ایکسپو 2026 نئی سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے مواقع پیدا کرے گی۔ ان کے مطابق اس نمائش سے تلنگانہ کی صنعتی صلاحیت مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت، ڈرون اور روبوٹکس مستقبل کی جنگوں میں اہم | Raksha Expo
ریونت ریڈی نے صنعت کاروں اور تکنیکی ماہرین سے جدید اختراعات تلنگانہ لانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نئی ٹیکنالوجی کے فروغ میں تعاون فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ جدید صنعتی منصوبوں کے لیے سازگار ماحول بھی تیار کیا جائے گا۔
چیف منسٹر کے مطابق مستقبل کی جنگیں روایتی جنگوں سے مختلف ہوں گی۔ جدید دفاعی نظام میں ڈرون، روبوٹ اور مصنوعی ذہانت کا کردار بڑھ رہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کے استعمال سے جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی نظام مستقبل کے میدان جنگ کو متاثر کریں گے۔ اسی طرح جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور روبوٹکس کی اہمیت بھی بڑھے گی۔ اس لیے دفاعی شعبے میں تحقیق اور تکنیکی اختراعات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت صنعتوں کو ترقی کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کرنا چاہتی ہے۔ تاہم صنعتی اداروں کو بھی جدید تحقیق اور اختراعات میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
رکشا ایکسپو کو بین الاقوامی دفاعی پلیٹ فارم بنانے کی خواہش | Raksha Expo
چیف منسٹر نے رکشا ایکسپو کو عالمی سطح کا فعال صنعتی پلیٹ فارم بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش دفاعی اور متعلقہ صنعتوں کو مشترکہ مواقع فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق مختلف کمپنیوں اور اداروں کے نمائندے اس پلیٹ فارم پر ملاقاتیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ نئی سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات سے طویل مدتی صنعتی شراکت داری قائم ہو سکتی ہے۔ چنانچہ حکومت رکشا ایکسپو کو بین الاقوامی سطح پر اہم مقام دلانا چاہتی ہے۔ تعارفی پروگرام میں دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ اور بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ کے نمائندے شریک ہوئے۔ مشرا دھاتو نگم لمیٹڈ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اس کے علاوہ ٹاٹا گروپ کی کمپنیوں، ایئربس، سفران اور اسکائی روٹ کے نمائندے موجود تھے۔ لاک ہیڈ مارٹن اور بھارت فورج سمیت دیگر ممتاز اداروں نے بھی پروگرام میں حصہ لیا۔
حیدرآباد کی دفاعی اہمیت اور فوجی تحقیقی اداروں کا کردار | Raksha Expo
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہندوستان کے دفاعی نظام میں حیدرآباد کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے شہر کو سکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی محفوظ قرار دیا۔ ان کے مطابق حیدرآباد میں متعدد اہم دفاعی تحقیقی ادارے موجود ہیں۔ یہ ادارے ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں ہندوستانی فوج اور ہندوستانی فضائیہ سے متعلق اہم اسٹریٹجک مراکز بھی موجود ہیں۔ اس وجہ سے حیدرآباد کو قومی دفاعی نظام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کے جغرافیائی محل وقوع کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جنوبی ہندوستان کی واحد ایسی ریاست ہے جس کی سرحد سمندر سے نہیں ملتی۔
تاہم سمندری ساحل نہ ہونے کے باوجود ریاست ہندوستانی بحریہ کو اہم خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق تلنگانہ کا دفاعی کردار صرف زمینی اور فضائی شعبوں تک محدود نہیں ہے۔ ریونت ریڈی نے وقارآباد ضلع کے داماگنڈم ریزرو فاریسٹ میں زیر تعمیر بحری ریڈار مرکز کا حوالہ دیا۔ یہ منصوبہ انتہائی کم فریکوئنسی کی مواصلاتی ٹیکنالوجی سے متعلق ہے۔
ان کے مطابق یہ مرکز ہندوستانی بحریہ کے لیے اہم اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے قومی دفاعی نظام میں تلنگانہ کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
بھارت فیوچر سٹی میں 7 تا 9 دسمبر عالمی سرمایہ کاری سمٹ | Raksha Expo
چیف منسٹر نے گزشتہ سال منعقدہ پہلی عالمی سرمایہ کاری سمٹ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب کے ذریعے مختلف شعبوں کے نمائندوں کو مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق پہلی سمٹ نے صنعت کاروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان روابط بڑھانے میں مدد دی۔ اسی تجربے کی بنیاد پر حکومت دوسری سمٹ بڑے پیمانے پر منعقد کرنا چاہتی ہے۔
ریونت ریڈی نے بتایا کہ دوسری انویسٹ تلنگانہ گلوبل سمٹ 7، 8 اور 9 دسمبر 2026 کو منعقد ہوگی۔ اس کے لیے حیدرآباد کے بھارت فیوچر سٹی کو مقام مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے تعارفی پروگرام میں موجود ملکی اور بین الاقوامی نمائندوں کو ذاتی طور پر شرکت کی دعوت دی۔ ان کے مطابق یہ تقریب صنعتی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کا اہم موقع ہوگی۔
چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت عالمی سرمایہ کاروں اور دفاعی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے رکشا ایکسپو کو اہم پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔
دفاعی اداروں، عالمی کمپنیوں اور ممتاز شخصیات کی شرکت | Raksha Expo
رکشا ایکسپو کے تعارفی پروگرام میں حاضر سروس اور سابق اعلیٰ دفاعی عہدیداروں نے شرکت کی۔ تلنگانہ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سی وی آنند بھی موجود تھے۔ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم کے نمائندوں نے پروگرام میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ بھارت ڈائنامکس، مشرا دھاتو نگم اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
امریکی قونصل جنرل لارا ولیمز نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ اسی طرح بھارت فورج کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر بابا این کلیانی موجود تھے۔ اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر پون کمار چندنا نے بھی پروگرام میں حصہ لیا۔ ان کے علاوہ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم کے سابق چیئرمین ڈاکٹر جی ستیش ریڈی شریک ہوئے۔
لاک ہیڈ مارٹن کے سربراہ مائیکل فرنانڈیز بھی تقریب میں موجود تھے۔ لارسن اینڈ ٹوبرو انجینئرنگ سسٹمس کے خصوصی مقصدی ادارے کے نمائندے ارون رام چندانی نے بھی شرکت کی۔ دھروا اسپیس کے شریک بانی سنجے نیکنتی بھی پروگرام میں شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ سفران کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جتیندر گاونکر موجود تھے۔
ایئربس ڈیفنس اینڈ اسپیس کے صدر وینکٹ کٹکوری نے بھی شرکت کی۔ ہندوستان کے دفاعی شعبے سے وابستہ کئی دیگر ممتاز شخصیات بھی تقریب میں موجود تھیں۔
حکومت اور صنعتوں کے تعاون سے دفاعی شعبے میں ترقی کا عزم | Raksha Expo
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت اور صنعتی اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ اسی طرح تکنیکی ماہرین اور تحقیقی اداروں کی شرکت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ کوششوں سے تلنگانہ کی دفاعی صلاحیت مضبوط ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، اس تعاون سے ہندوستان کے مجموعی دفاعی شعبے کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نئی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ دفاعی مصنوعات کی مقامی تیاری کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے صنعت کاروں سے رکشا ایکسپو کے پلیٹ فارم کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب اختراعات، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔
بالآخر چیف منسٹر نے تلنگانہ کو دفاعی اور ایرو اسپیس صنعتوں کا اہم مرکز بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ایرو اسپیس اینڈ ڈیفنس پالیسی 2.0 اس سمت میں اہم قدم ہوگی۔ ان کے مطابق تلنگانہ رائزنگ 2047 کے معاشی اہداف کے حصول کے لیے جدید صنعتوں کی ترقی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت عالمی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنا چاہتی ہے۔
