حیدرآباد: تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے ریاست کو ایرو اسپیس اور دفاعی صنعتوں کا عالمی مرکز بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مقصد کے لیے جامع صنعتی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ دسمبر میں منعقد ہونے والی رکشا ایکسپو 2026 اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری کا تحفظ حکومت کی اہم ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ بلاوقفہ برقی سربراہی، صنعتی منظوریوں میں تیزی اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بھٹی وکرمارکا کے مطابق حکومت صرف نئی سرمایہ کاری حاصل کرنا نہیں چاہتی۔ اس کا بنیادی مقصد مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا بھی ہے۔ مزید برآں، چھوٹی صنعتوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنا حکومتی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار صنعتی ترقی کے لیے شفاف پالیسیاں ضروری ہیں۔ اسی طرح مضبوط مالی منصوبہ بندی اور قابل اعتماد برقی نظام بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر حیدرآباد کے تاریخی تاج فلک نما پیالیس میں رکشا ایکسپو کے تعارفی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ تقریب انویسٹ تلنگانہ گلوبل سمٹ 2026 کے سلسلے میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر چیف منسٹر اے ریونت ریڈی بھی موجود تھے۔ وزراء کیپٹن این اتم کمار ریڈی اور ڈی سریدھر بابو نے بھی شرکت کی۔ ان کے علاوہ ایئر چیف مارشل چودھری، ڈاکٹر ستیش ریڈی اور قونصل جنرل لارا ولیمز تقریب میں شریک ہوئے۔ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، سائنس دانوں اور ممتاز صنعت کاروں نے بھی پروگرام میں حصہ لیا۔
سرمایہ کاری کے اعلانات نہیں، عملی نتائج ترقی کا معیار | Raksha Expo
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ صرف سرمایہ کاری کے اعلانات کو ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ اصل کامیابی صنعتی پیداوار میں اضافے سے ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح مقامی کاروباری اداروں کو نئے آرڈرز ملنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری سے خاندانوں کے لیے مستقل آمدنی کے ذرائع پیدا ہونے چاہئیں۔ چنانچہ حکومت صنعتی منصوبوں کے عملی نتائج کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے ایرو اسپیس صنعت میں معیار اور درستگی کی اہمیت واضح کی۔ انہوں نے کہا کہ طیارے میں نصب انتہائی چھوٹا پرزہ بھی سینکڑوں انسانی جانوں کی حفاظت کر سکتا ہے۔ ممکن ہے مسافروں کو اس پرزے کی تیاری کرنے والی کمپنی کا علم نہ ہو۔ تاہم اس کی درست کارکردگی ان کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔
بھٹی وکرمارکا کے مطابق سرکاری انتظامیہ کو بھی اسی اصول پر کام کرنا چاہیے۔ حکومتی اداروں کی ذمہ داری صرف اعلانات کرنا نہیں ہے۔ انہیں اپنے فرائض مستقل مزاجی اور ذمہ داری سے انجام دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری نظام کی قابل اعتماد کارکردگی سے عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاروں کو بھی حکومتی اداروں پر بھروسہ حاصل ہوتا ہے۔
صنعتی منظوریوں میں تاخیر سے پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ | Raksha Expo
ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ایرو اسپیس صنعت میں انتہائی باریک پیمائش کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض صنعتی پرزوں کی تیاری میں مائیکرون کی سطح تک درستگی برقرار رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی انتظامیہ میں بھی اسی نوعیت کا نظم و ضبط ضروری ہے۔ صنعتی ترقی کے لیے انتظامی فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
بھٹی وکرمارکا نے خبردار کیا کہ صنعتی منظوریوں میں غیر یقینی صورتحال نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ادائیگیوں اور بجلی کے کنکشن میں تاخیر بھی مسائل پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی رکاوٹیں کئی ماہ کی صنعتی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لیے سرکاری خدمات کو جدید صنعتوں کی رفتار کے مطابق بنانا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ کو عالمی صنعتی مرکز بنانے کے لیے قابل اعتماد انتظامی نظام ضروری ہے۔ حکومت کو صنعتوں کی ضروریات بروقت پوری کرنی ہوں گی۔
صنعتی ترقی کے لیے قابل اعتماد بجلی اور مالی نظم و ضبط | Raksha Expo
بھٹی وکرمارکا نے صنعتی ترقی میں مختلف سرکاری محکموں کے باہمی تعاون کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ فینانس، منصوبہ بندی اور توانائی کے درمیان مؤثر تال میل ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تمام 3 قلمدان ان کی ذمہ داری میں ہیں۔ اس لیے صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے مربوط منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق صنعتوں کو واضح مالی پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مستقل اور قابل اعتماد برقی سربراہی بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت قابل تجدید توانائی کے فروغ پر کام کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ برقی ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے کے منصوبے بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔
مزید برآں، توانائی ذخیرہ کرنے کے جدید نظام تیار کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد صنعتی شعبے کو مستقل بجلی فراہم کرنا ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے واضح کیا کہ صرف شمسی توانائی کی پیداوار بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ کارخانوں کو ان کے پیداواری اوقات کے مطابق بجلی درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ برقی نظام کو صنعتی ضروریات کے مطابق قابل اعتماد بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے سرکاری اخراجات میں مالی نظم و ضبط پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ہر صنعتی ترغیب اور سبسڈی پر سرکاری خزانے سے رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوامی وسائل کے استعمال سے واضح فائدہ حاصل ہو۔ حکومت کو ہر مالی ترغیب کے نتائج کا جائزہ لینا چاہیے۔
نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور روزگار کے مواقع | Raksha Expo
ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ترقی کا حقیقی فائدہ عام خاندانوں تک پہنچنا چاہیے۔ سرمایہ کاری سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کی مہارتوں میں بہتری بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اداروں کو نئے کاروباری مواقع ملنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ خاندانوں کے لیے مستحکم روزگار پیدا ہونا چاہیے۔
نوجوانوں کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ معاشرے میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ہے۔ تاہم ہر نوجوان کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے یکساں مواقع دستیاب نہیں ہوتے۔ انہوں نے مثال دی کہ سرکاری کالج میں زیر تعلیم طالبہ بھی ماہر ایرو اسپیس ٹیکنیشن بن سکتی ہے۔ اس کے لیے مناسب تربیت اور عملی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق جدید تربیتی آلات نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح صنعتی اداروں میں عملی تربیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ صنعتوں کو نوجوانوں کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ انہیں پیشہ ورانہ زندگی شروع کرنے کے لیے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔
اسکلز یونیورسٹی اور جدید ٹیکنالوجی مراکز کا کردار | Raksha Expo
ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی قیادت میں ہنرمندی کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت نوجوانوں کو جدید صنعتی تقاضوں کے مطابق تیار کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکلز یونیورسٹی اور ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرس کے ذریعے تربیت فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بھٹی وکرمارکا نے صنعت کاروں سے ان اقدامات میں تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی اداروں اور صنعتوں کے درمیان مضبوط روابط ضروری ہیں۔ ان کے مطابق کسی نوجوان کو پہلی عملی تربیت ملنا اہم موقع ہوتا ہے۔ اسی طرح پہلی ملازمت اس کی معاشی زندگی بدل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزگار کے ایسے مواقع خاندانوں کی مالی صورتحال پر بھی مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے صنعتی ترقی کو ہنرمندی کے فروغ سے مربوط کرنا ضروری ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے واضح کیا کہ نئی صنعتوں کے قیام کے ساتھ مقامی افرادی قوت کی تربیت بھی ہونی چاہیے۔ مزید برآں، ملازمتوں میں اضافے کو صنعتی منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔
مقامی سپلائرز اور چھوٹی صنعتوں کو ترقی دینے کی اپیل | Raksha Expo
بھٹی وکرمارکا نے صنعت کاروں سے کہا کہ وہ مقامی سپلائرز کی ترقی کو ترجیح دیں۔ سرمایہ کاری کے منصوبوں میں اپرنٹس شپ کے مواقع بھی شامل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی صنعتوں کو اپنی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ انہیں جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے میں مدد فراہم کی جائے۔
ان کے مطابق چھوٹے صنعتی اداروں کے لیے معیار کی پابندی ضروری ہے۔ اس لیے انہیں مطلوبہ صنعتی معیار تک پہنچنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کمپنیوں سے نوجوانوں کو پہلا پیشہ ورانہ تجربہ فراہم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری اور روزگار کے درمیان براہ راست تعلق قائم ہوگا۔ اسی طرح مقامی کاروبار کو بھی ترقی ملے گی۔ نتیجتاً صنعتی سرمایہ کاری کے فوائد وسیع معاشی سرگرمیوں تک پہنچ سکیں گے۔
تحقیق، ڈیزائن اور جدید ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ | Raksha Expo
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ دفاعی اور ایرو اسپیس صنعتوں میں تحقیق کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس لیے تلنگانہ کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کے شعبوں پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت بڑھانا کافی نہیں ہے۔ صنعتوں کو نئی ٹیکنالوجی حاصل کرنے اور اسے سمجھنے کی مہارت بھی درکار ہے۔
اس کے علاوہ جدید تکنیکی معلومات کو عملی پیداوار میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے لیے مسلسل سیکھنے کا ماحول قائم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مضبوط صنعتی نظام میں افراد اور ادارے اپنی مہارتوں کو مسلسل بہتر بناتے ہیں۔ اسی طرح تجربہ کار افراد کا علم نئی نسل تک منتقل ہونا چاہیے۔
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تکنیکی مہارتوں کی منتقلی سے صنعتی ترقی کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ مزید برآں، نئی نسل جدید صنعتوں کی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنتی ہے۔
رکشا ایکسپو 7 تا 9 دسمبر، صنعت کاروں کو شرکت کی دعوت | Raksha Expo
ڈپٹی چیف منسٹر نے صنعت کاروں، ماہرین اور سرمایہ کاروں کو رکشا ایکسپو میں شرکت کی دعوت دی۔ یہ نمائش 7، 8 اور 9 دسمبر 2026 کو منعقد ہونے والی ہے۔ انہوں نے شرکاء سے حکومتی پالیسیوں کے بارے میں تجاویز پیش کرنے کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ انتظامی نظام اور صنعتی سہولتوں میں بہتری کے لیے مشورے بھی طلب کیے۔
بھٹی وکرمارکا نے صنعت کاروں کو طویل مدتی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ نمائش کے دوران قائم ہونے والے روابط بعد میں بھی جاری رہنے چاہئیں۔ ان کے مطابق رکشا ایکسپو میں ہونے والے فیصلے مستقبل میں روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کسی ایسے نوجوان کو پہلی ملازمت ملے جو اس تقریب میں موجود بھی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت، صنعتوں اور تکنیکی ماہرین کو مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ اس تعاون کے ذریعے صنعتی امکانات کو حقیقی ملازمتوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے واضح کیا کہ صنعتی ترقی کا فائدہ صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ مقامی نوجوانوں، چھوٹے کاروباری اداروں اور عام خاندانوں کو بھی اس کے ثمرات ملنے چاہئیں۔
حیدرآباد کی صنعتی صلاحیت سے عالمی سرمایہ کاری راغب کرنے کا منصوبہ | Raksha Expo
بھٹی وکرمارکا نے رکشا ایکسپو کے انتظامات پر وزیر کیپٹن این اتم کمار ریڈی کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ممتاز صنعت کاروں کو مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیر صنعت ڈی سریدھر بابو کے تعاون کا اعتراف کیا۔ ریاست کے چیف سکریٹری کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت مزید صنعتوں کو تلنگانہ لانا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری کا سازگار ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کا ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچہ ریاست کی اہم طاقت ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہنرمند افرادی قوت اور تکنیکی صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔
ان کے مطابق ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ اس سے تلنگانہ ایرو اسپیس اور دفاعی صنعتوں میں اپنی عالمی حیثیت مضبوط کر سکتا ہے۔ بالآخر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ رکشا ایکسپو 2026 کی کامیابی کا معیار صرف سرمایہ کاری کے اعلانات نہیں ہوں گے۔ نمائش میں شریک کمپنیوں کی تعداد بھی کامیابی کا واحد پیمانہ نہیں ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اصل اہمیت عملی نتائج کو حاصل ہوگی۔ یہ دیکھا جائے گا کہ مقامی صنعتوں کو کتنے نئے مواقع ملے اور نوجوانوں کے لیے کتنی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ اسی طرح ریاست کی صنعتی پیداواری صلاحیت میں ہونے والے اضافے کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہی نتائج تلنگانہ کی پائیدار صنعتی ترقی کی حقیقی بنیاد بنیں گے۔
