راہل گاندھی کا سپریم کورٹ تک مارچ کا اعلان| Rahul Gandhi March
حیدرآباد:۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پیر کو سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیدل مارچ میں نوجوان، اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوں گے۔ شرکاء چیف جسٹس کو یادداشت پیش کرکے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
راہل گاندھی نے دہلی میں احتجاج کے دوران طلبہ اور نوجوانوں پر مبینہ حملے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے اس واقعے میں پولیس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ ان کے مطابق، پُرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
انہوں نے ووٹ چوری کے خلاف جدوجہد تیز کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ مزید برآں، انہوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل (ایس آئی آر) کو بھی چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ اس عمل کو خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کہا جاتا ہے۔
ایس آئی آر کے خلاف متحدہ جدوجہد کی اپیل | Rahul Gandhi March
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ دہلی میں پُرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر پولیس اور بی جے پی کے حامیوں نے حملہ کیا۔ ان کے مطابق، نوجوان نفرت کے تحت نہیں بلکہ جمہوریت پر یقین کی وجہ سے احتجاج میں شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس ہندوستان کی عکاسی نہیں کرتے جس کی نوجوان خواہش رکھتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی جماعت، ذات، مذہب، جنس اور علاقے کے اختلافات سے بالاتر ہو جائیں۔ ان کے مطابق، تمام شہریوں کو ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے جمہوریت پر یقین رکھنے والے ہر فرد سے پیدل مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
اس احتجاج کے اہم مطالبات میں ووٹر فہرستوں کی بے ضابطگیوں کو روکنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، شرکاء انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کا عمل روکنے کا مطالبہ کریں گے۔ راہل گاندھی نے انتخابی عمل میں شفافیت پر بھی زور دیا۔
جمہوریت اور آئین کے تحفظ کا عزم | Rahul Gandhi March
راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ بھی ان کی جدوجہد نہیں روک سکتے۔ انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، یہ رہنما بھی ان کی تحریک کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد محبت، بھائی چارے اور حب الوطنی کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ مزید برآں، انہوں نے جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کے مطابق، ووٹ دینے کے حق کا تحفظ اور انتخابی عمل میں شفافیت ان کی جدوجہد کے بنیادی مقاصد ہیں۔
