داسوجو سراون کمار کی ریونت ریڈی پر تنقید | Political Criticism
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی کے ایم ایل سی داسوجو سراون کمار نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے طرز سیاست، عوامی بیانات اور حکومتی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق عوام کو کئی اہم فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں مل رہا۔
داسوجو سراون کمار نے پیر کو تلنگانہ بھون میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کی عوامی تقاریر میں استعمال ہونے والی زبان پر بھی اعتراض کیا۔ مزید برآں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا سیاسی مخالفین کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنا مناسب سیاسی رویہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف بھی نامناسب ریمارکس کیے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات وزیر اعلیٰ کے منصب کے وقار سے مطابقت نہیں رکھتے۔
فلاحی وعدوں پر حکومت کو نشانہ | Political Criticism
داسوجو سراون کمار نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدے پورے نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک جیسی فلاحی اسکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ان منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں کر رہی۔
اسی دوران انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعلیٰ روزانہ 18 گھنٹے کام کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے پوچھا کہ اس کے باوجود عوام کو کیا نمایاں نتائج حاصل ہوئے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ بار بار نئی دہلی کے دورے کرتے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ دورے رقم لے جانے کے لیے کیے گئے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت شامل نہیں تھا۔
زمینوں سے متعلق الزامات بھی دہرائے | Political Criticism
داسوجو سراون کمار نے چیوڑلا اور شاہ آباد علاقوں کی زمینوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ اور ان کے قریبی افراد نے ان علاقوں کی زمینوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم دستیاب معلومات میں اس دعوے کے حق میں بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے شفاف طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ لہٰذا ایسے معاملات پر واضح وضاحت دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق غیر یقینی صورتحال عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔
سماجی انصاف کے معاملے پر بھی اعتراض | Political Criticism
داسوجو سراون کمار نے کانگریس حکومت کی سماجی انصاف سے متعلق پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں “انمولہ انصاف” قرار دیا، جو وزیر اعلیٰ کے خاندانی نام کی طرف اشارہ تھا۔
مزید برآں، انہوں نے اپنی تنقید کو نامکمل وعدوں اور رکی ہوئی فلاحی اسکیموں سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی عوامی زبان اور سیاسی رویہ ان کے آئینی منصب کے مطابق نہیں ہے۔ ان کے یہ ریمارکس تلنگانہ بھون میں کانگریس حکومت کے خلاف وسیع سیاسی تنقید کا حصہ تھے۔
