Olympic Vision
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ریاست 2036 اولمپکس کی میزبانی کے لیے اپنی بھرپور تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کو میزبانی کا حق ملا تو حیدرآباد عالمی معیار کے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر اعلیٰ نے گچی باؤلی اسپورٹس ڈسٹرکٹ اور ینگ انڈیا فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس یونیورسٹی کا افتتاح کیا۔ تقریب میں انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کی صدر پی ٹی اوشا بھی شریک ہوئیں۔ اس موقع پر وزراء، عوامی نمائندے، کھلاڑی، افسران اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ تلنگانہ میں نومبر کے دوران کھیلو انڈیا گیمز منعقد ہوں گے۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ ریاست 2036 اولمپکس کی میزبانی کے لیے بھی مکمل عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت 82 ایکڑ اراضی پر عالمی معیار کی اسپورٹس یونیورسٹی اور جدید اسپورٹس اکیڈمی قائم کرے گی۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی دسمبر 2028 سے باقاعدہ کام شروع کرے گی۔
کھیلوں کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی | Olympic Vision
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی کمی تھی۔ لہٰذا تلنگانہ حکومت نے ایک جامع اسپورٹس پالیسی متعارف کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپورٹس یونیورسٹی کو مہاتما گاندھی کے اخبار “ینگ انڈیا” سے متاثر ہو کر قائم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد ماضی میں افرو-ایشین گیمز، ورلڈ ملٹری گیمز اور کامن ویلتھ یوتھ گیمز کی کامیاب میزبانی کر چکا ہے۔ تاہم گزشتہ تقریباً 20 برس سے شہر میں کوئی بڑا بین الاقوامی کھیلوں کا ایونٹ منعقد نہیں ہوا۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بعض اسٹیڈیم شادیوں اور سیاسی پروگراموں کے لیے استعمال ہونے لگے تھے۔ چنانچہ حکومت تمام کھیلوں کی سہولتوں کو دوبارہ بحال کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اسپورٹس یونیورسٹی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت کام کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس کے روزمرہ انتظام میں مداخلت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سنجیو گوئنکا، ابھینو بندرا، کپل دیو، کاویا مارن، اُپاسنا کونڈیلا اور روی کانت ریڈی ادارے کی رہنمائی کریں گے۔
پی ٹی اوشا نے ینگ انڈیا فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس یونیورسٹی کے قیام پر تلنگانہ حکومت کو مبارک باد دی۔ مزید برآں انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کے اقدامات کو سراہا۔
کھلاڑیوں کے لیے مراعات اور نئے ایونٹس | Olympic Vision
ریونت ریڈی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ کھیلوں کو بھی اہمیت دیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملک کا نام روشن کرنے والے کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ ناکامی کو سیکھنے کا موقع سمجھیں اور اپنے مقصد پر توجہ برقرار رکھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے تلنگانہ کے کھیلوں کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پی ٹی اوشا سے رہنمائی بھی طلب کی۔
تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نے تلنگانہ کے 6 کھلاڑیوں میں مجموعی طور پر ₹7.15 کروڑ کی نقد انعامی رقم تقسیم کی۔ دیپتی جیون جی کو ₹50 لاکھ، دھنوش سریکانت کو ₹2.10 کروڑ، ایشا سنگھ کو ₹3.30 کروڑ، نکہت زرین کو ₹60 لاکھ، تنشک مرلی دھر نائیڈو کو ₹53.65 لاکھ اور راوری سوربھی بھاردواج کو ₹10 لاکھ دیے گئے۔
آخر میں وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ تلنگانہ 2026 میں 8ویں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز، نیشنل انٹر ڈسٹرکٹ جونیئر ایتھلیٹکس میٹ، ہاکی انڈیا لیگ، ورلڈ پکل بال لیگ، آرچری پریمیئر لیگ اور ٹینس پریمیئر لیگ کی میزبانی کرے گا۔ بعد ازاں انہوں نے “تلنگانہ اسپورٹس نالج آن ویلز” اقدام کا بھی آغاز کیا۔
2036 లో ఒలింపిక్స్ క్రీడలను నిర్వహించాలని భారతదేశం పోటీ పడుతున్న నేపథ్యంలో ఆ క్రీడల నిర్వహణకు తెలంగాణ ఆతిథ్యం ఇవ్వాలన్న బలమైన ఆకాంక్షను ముఖ్యమంత్రి శ్రీ @revanth_anumula గారు వ్యక్తం చేశారు. ఆ క్రీడల నిర్వహణకు అనుగుణంగా తెలంగాణ, హైదరాబాద్ నగరాన్ని అన్ని రకాలుగా సర్వసన్నద్ధం… pic.twitter.com/i1hYvexjiT
— Telangana CMO (@TelanganaCMO) July 9, 2026
