بی جے پی کا اقلیتی سیاست پر حملہ | Minority Welfare
حیدرآباد:۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے کانگریس اور بی آر ایس پر انتخابی فائدے کے لیے اقلیتی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اقلیتوں کی فلاح اور بااختیاری پر توجہ دے رہی ہے۔
این رام چندر راؤ نے یہ بات ہفتہ کو محبوب نگر میں بی جے پی کے ضلعی دفتر میں منعقدہ اقلیتی مورچہ کی ریاستی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کہی۔ مزید برآں، انہوں نے مرکزی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت “سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس” کے اصول پر عمل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے “کسی کی خوشامد نہیں، سب کے لیے انصاف” کے نعرے کا بھی حوالہ دیا۔
این رام چندر راؤ کے مطابق اقلیتیں ملک کی آبادی کا تقریباً 12 سے 15 فیصد حصہ ہیں۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے اقلیتی مستحقین کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔
فلاحی اسکیموں اور سیاسی الزامات کا ذکر | Minority Welfare
این رام چندر راؤ نے پردھان منتری مدرا یوجنا کا حوالہ دیا۔ مزید برآں، انہوں نے جن دھن یوجنا اور اجولا یوجنا کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کو اسکالرشپس بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ لہٰذا، ان کے مطابق مرکزی حکومت اقلیتوں کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کانگریس پر تقسیم کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ اسی دوران، انہوں نے بی آر ایس پر مسلمانوں کے لیے خوشامدانہ پالیسی اختیار کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت سب کے لیے یکساں انصاف کی حمایت کرتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے مخالف جماعتوں کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔
ایم آئی ایم ایم ایل سی سے متعلق الزامات | Minority Welfare
این رام چندر راؤ نے ایم آئی ایم کے ایم ایل سی مرزا رحمت بیگ سے متعلق جنسی ہراسانی کے الزامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ان الزامات پر سخت قانونی کارروائی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کانگریس اور بی آر ایس سے سوال کیا کہ وہ اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے دونوں جماعتوں سے اپنا مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایم ایل سی کی معطلی کافی نہیں ہوگی۔ یوں انہوں نے موجودہ الزامات اور ماضی کے واقعات کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے مبینہ متاثرہ فرد کو انصاف ملنا چاہیے۔ لہٰذا انہوں نے اس مطالبے کو اپنی وسیع تر سیاسی تنقید سے جوڑا۔
تلنگانہ کی تاریخی جدوجہد اور تنظیمی امور | Minority Welfare
این رام چندر راؤ نے تلنگانہ لبریشن اسٹرگل کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سوامی رامانند تیرتھا، پی وی نرسمہا راؤ، وندے ماترم رام چندر راؤ اور شعیب اللہ خان نے نظام حکومت کے خلاف جدوجہد کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان شخصیات کا کردار تلنگانہ کی سیاسی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ان کی خدمات کو حب الوطنی کی علامت قرار دیا۔
اجلاس میں رکن پارلیمنٹ ڈی کے ارونا بھی شریک ہوئیں۔ اسی دوران، بی جے پی رہنماؤں نے تنظیمی استحکام اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
آخر میں اقلیتی مورچہ کی مجلس عاملہ کا اجلاس تنظیمی سرگرمیوں اور مستقبل کے پروگراموں پر غور کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
