خالد سیف اللہ کا بی جے پی سے ثبوت کا مطالبہ | Minority Welfare Claims
حیدرآباد:۔ حیدرآباد ڈی سی سی کے صدر سید خالد سیف اللہ نے تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ کے اقلیتی فلاح سے متعلق دعووں پر سوال اٹھایا۔ مزید برآں، انہوں نے ان دعووں کے حق میں سرکاری ثبوت جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
سیف اللہ نے کہا کہ رام چندر راؤ نے پردھان منتری مدرا یوجنا، پردھان منتری جن دھن یوجنا اور پردھان منتری اجولا یوجنا کا حوالہ دیا۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اقلیتوں کا حصہ 22 فیصد سے 37 فیصد تک رہا۔
سیف اللہ نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ ان اعداد و شمار کی تائید نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار اس سے کہیں کم حصہ ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جماعت کے ریاستی صدر کو درست معلومات پیش کرنی چاہییں۔ لہٰذا، انہوں نے حکومت ہند کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے ثبوت طلب کیے۔
مدرا یوجنا کے اعداد و شمار | Minority Welfare Claims
سیف اللہ نے نومبر 2023 کی نیتی آیوگ رپورٹ کا حوالہ دیا۔ مزید برآں، انہوں نے رپورٹ کے ٹیبل 24 کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ 2015 سے 2022 تک اقلیتی کھاتوں کا تناسب 8 فیصد سے 14 فیصد کے درمیان رہا۔ اس کے علاوہ، مختلف برسوں میں یہ شرح 12، 13، 11، 10، 10، 8 اور 14 فیصد درج ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو دی گئی قرض کی رقم بھی 12 فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔ مزید برآں، انہوں نے واضح کیا کہ کھاتوں کی تعداد اور قرض کی رقم الگ الگ اشاریے ہیں۔
سیف اللہ نے 29 اکتوبر 2024 کی وزارت خزانہ کی پریس ریلیز کا بھی حوالہ دیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ 2023-24 میں اقلیتی قرض لینے والوں کو ₹45,088 کروڑ فراہم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ رقم کل قرض کا تقریباً 8.5 فیصد بنتی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایس بی آئی کی تحقیقی رپورٹ میں یہ شرح تقریباً 11 فیصد بتائی گئی ہے۔
جن دھن اور اجولا یوجنا پر سوال | Minority Welfare Claims
سیف اللہ نے پوچھا کہ 22 فیصد سے 37 فیصد تک کے اعداد کہاں سے آئے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ یہ دعوے سرکاری ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے جن دھن اور اجولا یوجنا کے اعداد و شمار کی بنیاد بھی طلب کی۔ لہٰذا، انہوں نے طریقہ کار عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا۔
سیف اللہ نے کہا کہ جن دھن فارم میں مذہب درج نہیں کیا جاتا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اجولا یوجنا میں صرف جنرل، ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی زمرے درج ہوتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ پھر 37 فیصد کا مذہب وار تناسب کیسے نکالا گیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے متعلقہ سرکاری ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسکالرشپ اسکیموں پر بھی اعتراض | Minority Welfare Claims
سیف اللہ نے کہا کہ مختار عباس نقوی نے بھی مارچ 2022 میں اسی طرح کے اعداد کا حوالہ دیا تھا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یہ اعداد ایک مبینہ مطالعے سے منسوب کیے گئے تھے۔
انہوں نے اس مطالعے کو عوام کے سامنے جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مطالعے کا عنوان، مصنف اور طریقہ کار بھی شائع کرنے کی اپیل کی۔
سیف اللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی اقلیتی طلبہ کی مسلسل مدد کا تاثر دے رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ کئی تعلیمی اسکیمیں بند کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے 4 فروری 2026 کے لوک سبھا جواب کا حوالہ دیا۔ مزید برآں، انہوں نے پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینز اسکالرشپ اسکیموں کا ذکر کیا۔
انہوں نے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ، پڑھو پردیش اور نئی اڑان اسکیموں کے خاتمے کا بھی حوالہ دیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اقلیتی امور کی وزارت کے بجٹ میں کمی کا ذکر کیا۔
سیف اللہ نے کہا کہ اقلیتی فلاح کے دعووں کا جائزہ سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ چنانچہ، انہوں نے رام چندر راؤ سے 22 فیصد سے 37 فیصد والے دعووں کے تمام ثبوت عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
