میڈی گڈہ کیس پر بی آر ایس کا سوال | Medigadda Barrage Case
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی کے جنرل سکریٹری آر ایس پروین کمار نے میڈی گڈہ بیراج کیس میں تاخیر پر کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 3 سال قبل شکایت درج ہونے کے باوجود کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ جمعرات کو تلنگانہ بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے زیر التوا کیس پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پاور سیکٹر کے انجینئروں کی معطلی پر سوالات | Medigadda Barrage Case
پروین کمار نے یادادری تھرمل پاور پلانٹ کے چیف انجینئر سریش کی معطلی پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انجینئر نے سچ بیان کیا تھا۔ اسی دوران، انہوں نے پلانٹ کے کام کا جائزہ لینے کے لیے آئی اے ایس افسران کی کمیٹی بنانے پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے پوچھا کہ سماجیات، تاریخ اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے ماہر افسران تکنیکی معاملات کا جائزہ کیسے لیں گے۔ ان کے مطابق، پلانٹ لوڈ فیکٹر اور کوئلے کی کھپت جیسے امور کے لیے تکنیکی مہارت ضروری ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ٹرانسکو کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر پربھاکر راؤ کے گھر پولیس کے پہنچنے پر بھی سوال اٹھایا۔
بی آر ایس رہنما نے کہا کہ حکومت ان انجینئروں کو نشانہ بنا رہی ہے جنہوں نے بجلی کے اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی۔ انہوں نے پاور سیکٹر کے ماہرین کے خلاف کارروائی کی وجوہات بتانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، حکومت کو اس معاملے پر وضاحت دینی چاہیے۔
میڈی گڈہ بیراج کے قریب دھماکے کے دعوے | Medigadda Barrage Case
پروین کمار کے بیان کے بعد میڈی گڈہ بیراج کے قریب ممکنہ دھماکے سے متعلق سابقہ دعوے دوبارہ زیر بحث آگئے۔ بی آر ایس رہنماؤں کے مطابق، اس وقت کے انجینئر ان چیف مرلی دھر راؤ نے کانگریس کے وزرا کو ایک واقعے سے آگاہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیراج کے قریب بم دھماکے جیسی آواز سنی تھی۔ بتایا گیا کہ مرلی دھر راؤ نے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب، بی آر ایس رہنماؤں نے سیاسی سازش کا الزام بھی لگایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کسی نے میڈی گڈہ کے قریب بم نصب کرکے دھماکہ کیا۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق، اس واقعے سے بیراج کے ایک ستون میں دراڑیں پڑیں۔ تاہم، دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دھماکے کے باعث نقصان ہوا تھا۔
اسی طرح، تحقیقات کے نتائج کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ بی آر ایس کا کہنا ہے کہ مرلی دھر راؤ کے مبینہ بیان سے تحقیقات کا مطالبہ مزید اہم ہوگیا ہے۔ چنانچہ پروین کمار نے حکام سے پوچھا کہ 3 سال گزرنے کے باوجود شکایت پر پیش رفت کیوں نہیں ہوئی۔
انہوں نے کانگریس حکومت سے کیس کی موجودہ صورت حال واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ تحقیقات میں تاخیر کی وجوہات بتائیں۔ ان کے مطابق، حکومت کو زیر التوا شکایت پر کارروائی کرکے عوام کے سامنے حقائق رکھنے چاہئیں۔
