کسانوں سے مبینہ بدسلوکی پر ہریش راؤ برہم | Harish Rao Farmers
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے رہنما اور سابق وزیر ہریش راؤ نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت پر کسانوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے سرکاری مدد کے لیے رجوع کرنے والے کسانوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی مذمت کی۔ ہریش راؤ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں 2 واقعات کا ذکر کیا۔
سرکاری دفاتر میں کسانوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی | Harish Rao Farmers
ہریش راؤ کے مطابق، کسان زمین کے تنازعات اور دیگر مسائل حل کرانے کے لیے حکام سے رجوع کرتے ہیں۔ تاہم، انہیں مبینہ طور پر غیر انسانی رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے تحصیلدار کے دفتر میں پیش آئے ایک واقعے پر بھی اعتراض کیا۔
ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ ایک عہدیدار نے کسان سے پوچھا کہ آیا وہ اب بھی زندہ ہے۔ انہوں نے اس مبینہ تبصرے کو سرکاری عہدیداروں کی تکبرانہ ذہنیت قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایسے رویے سے انسانی ہمدردی کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔
بی آر ایس رہنما نے زرعی کھیتوں کو بجلی کی فراہمی پر سوال اٹھانے والے کسان کے ساتھ مبینہ پولیس تشدد کی بھی مذمت کی۔ ان کے مطابق، ایک سب انسپکٹر نے کسان پر لاٹھی سے حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ افسر نے مسئلہ اٹھانے پر کسان کے چہرے پر وار کیا۔
پولیس کارروائی اور حکومت پر ہریش راؤ کی تنقید | Harish Rao Farmers
ہریش راؤ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی ذمہ داری کسانوں کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ ان پر حملہ کرنا۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر کسانوں کی شکایات حل کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق، حکام مسائل حل کرنے کے بجائے شکایت کرنے والوں کو مبینہ طور پر ڈرا دھمکا رہے ہیں۔
بی آر ایس رہنما نے کہا کہ حکومت کا یہ رویہ عوامی فلاح کے دعووں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے انتظامیہ کو جابرانہ قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کسانوں کو باعزت زندگی گزارنے کے حق سے محروم کر رہی ہے۔
ہریش راؤ نے حکومت کو خبردار کیا کہ سرکاری فیصلوں پر سوال اٹھانے والے کسانوں کے خلاف مقدمات درج نہ کیے جائیں۔ انہوں نے شکایات دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کی بھی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کسانوں کی آواز دبانے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
ہریش راؤ کی تنقید کا مرکز سرکاری دفاتر میں کسانوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور زرعی بجلی کی فراہمی پر سوال اٹھانے والے کسان کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی رہی۔ انہوں نے دونوں واقعات کو اپنی ایکس پوسٹ میں اٹھایا۔ بالآخر، انہوں نے حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انتظامیہ کو کسانوں کو ہراساں کرنے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے چاہییں۔
