این رام چندر راؤ کا جی او 97 پر مطالبہ | GO 97 Protest
حیدرآباد:۔ بی جے پی رہنما اور سابق ایم ایل سی این رام چندر راؤ نے جی او 97 فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر طلبہ کے احتجاج نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ پولیس نے انہیں نظر بند کر دیا۔
این رام چندر راؤ پولی ٹیکنک طلبہ کے احتجاج میں شرکت کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ تاہم پولیس نے انہیں گھر میں نظر بند کر دیا۔ انہوں نے اس کارروائی پر سخت اعتراض کیا۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ بھر میں پولی ٹیکنک طلبہ احتجاج کر رہے ہیں۔ مزید برآں آیوش طلبہ بھی اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے مطالبے پر بھی احتجاج جاری ہے۔
این رام چندر راؤ نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے طلبہ کے مسائل پر توجہ نہیں دی۔ لہٰذا انہوں نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
حکومت کے رویے پر تنقید | GO 97 Protest
این رام چندر راؤ نے ایکس پر اپنا بیان جاری کیا۔ انہوں نے راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے تلنگانہ کی کانگریس قیادت پر بھی سوال اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مسائل کو اہمیت نہیں دے رہی۔ مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ اختلافی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نظر بندی بی جے پی کو نہیں روک سکتی۔ لہٰذا ان کی جماعت طلبہ کے حق میں آواز اٹھاتی رہے گی۔
جی او 97 واپس لینے کا مطالبہ | GO 97 Protest
این رام چندر راؤ نے کہا کہ بی جے پی طلبہ کی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے حکومت سے جی او 97 فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں انہوں نے طلبہ کے مطالبات پورے کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پولی ٹیکنک طلبہ جی او 97 کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آیوش طلبہ بھی اپنی الگ شکایات پیش کر رہے ہیں۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کا مطالبہ بھی برقرار ہے۔
این رام چندر راؤ نے کہا کہ بی جے پی ہر مرحلے پر طلبہ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ لہٰذا انہوں نے حکومت سے احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا۔
حکومت کا مؤقف شامل نہیں | GO 97 Protest
این رام چندر راؤ نے حکومت کے طرز عمل پر کئی الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مسائل حل نہیں کر رہی۔ مزید برآں انہوں نے نظر بندی کو تنقید دبانے کی کوشش قرار دیا۔
واضح رہے کہ حکومت کے ارادوں اور طلبہ کے مسائل سے متعلق تمام بیانات این رام چندر راؤ کے الزامات پر مبنی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں ریاستی حکومت کا کوئی مؤقف شامل نہیں تھا۔
