2027 میں سرمایہ کاری کا انخلا بڑا چیلنج | Foreign Investment Outflows
حیدرآباد:۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے خبردار کیا ہے کہ 2027 میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا بھارت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
انہوں نے شیئر بازار میں کمزوری کی ایک وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے شیئر کی فروخت کو قرار دیا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی معیشت کی بنیادی صورتحال مضبوط ہے۔
سیتارامن نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر یہ بات کہی۔
ان کے مطابق، بازار میں رقم نکالنے کی آسان سہولت سرمایہ کاروں کو فوری طور پر سرمایہ واپس لینے کا موقع دیتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی جانب عالمی سرمایہ کاری کا رخ | Foreign Investment Outflows
سیتارامن نے کہا کہ عالمی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق شعبوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق، تائیوان اور جنوبی کوریا میں اے آئی سے وابستہ کمپنیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
مزید برآں، انہوں نے امریکہ اور اے آئی سے متعلق شعبوں کی جانب سرمایہ منتقل ہونے پر تشویش ظاہر کی۔
سیتارامن نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر اے آئی سرمایہ کاری میں تیزی کم ہوئی اور بازار گرے تو بھارت پر نسبتاً محدود اثر پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس کی وجہ بھارت کا اس سرمایہ کاری رجحان سے نسبتاً کم متاثر ہونا بتایا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ بھارت جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے نہیں ہے۔
ان کے مطابق، بھارت سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
بھارتی شیئر بازار سے اربوں ڈالر کا انخلا | Foreign Investment Outflows
رواں سال اب تک بھارت کے اہم شیئر اشاریوں میں تقریباً 12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی تجارت اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود بھارتی معیشت ترقی کر رہی ہے۔ تاہم، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مقامی بازاروں سے بڑی مقدار میں رقم نکالی ہے۔
نیشنل سیکیورٹیز ڈیپازٹری لمیٹڈ (این ایس ڈی ایل) کے اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے رواں سال اب تک بھارتی شیئر میں 33 ارب ڈالر سے زیادہ کی فروخت کی۔
اسی دوران، 16 اکتوبر کو غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار دوبارہ خالص خریدار بن گئے۔ اس سے پہلے وہ مسلسل 15 تجارتی سیشنز میں شیئر فروخت کر رہے تھے۔
16 اکتوبر کو ان سرمایہ کاروں نے تقریباً ₹1,166 کروڑ کے شیئر خریدے۔
مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی فروخت | Foreign Investment Outflows
دوسری جانب، مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مسلسل خریداری کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، انہوں نے مسلسل 45 سیشنز تک خریداری کے بعد شیئر فروخت کیے۔ اس روز ان کی فروخت کی مالیت تقریباً ₹3,661 کروڑ رہی۔
یوں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی خریداری میں واپسی کے باوجود مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی فروخت نے بازار کی صورتحال کو مزید اہم بنا دیا۔
