رام چندر راؤ کا اپوزیشن پر بیرونی فنڈنگ کا الزام | Foreign Funding Claims
حیدرآباد:۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ نے اپوزیشن گروپوں پر بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گروپ ہندوستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، ان سرگرمیوں کا مقصد وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کارروائی کرنا بھی ہے۔
رام چندر راؤ نے بدھ کو حیدرآباد میں قومی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ الزامات لگائے۔ انہوں نے اپنے دعوؤں کی تائید میں گلوکارہ میری مل بین کے ایک ٹوئٹ کا حوالہ دیا۔ ان کے الزامات میں بیرونی رقم کے ذریعے مذہبی کشیدگی پیدا کرنے کے دعوے بھی شامل تھے۔
بیرونی فنڈنگ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے الزامات | Foreign Funding Claims
رام چندر راؤ نے دعویٰ کیا کہ میری مل بین نے امریکہ سے مبینہ براہ راست فنڈنگ کا معاملہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا نام لیا۔ ان کے الزام کے مطابق، یہ رقم ہندوستان میں مذہبی کشیدگی پیدا کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔
تاہم، فراہم کردہ بیان میں ان الزامات کی آزادانہ تصدیق کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اسی دوران، رام چندر راؤ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہین باغ کا واقعہ ماضی میں بھی ایسی صورتحال کی مثال تھا۔
ان کے مطابق، موجودہ حالات بھی اسی نوعیت کے واقعات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بیرونی رقم مودی حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں استعمال ہوئی۔ مزید برآں، انہوں نے ان سرگرمیوں کو ملک کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
اپوزیشن گروپوں اور غیر ملکی مالی معاونت پر سوالات | Foreign Funding Claims
بی جے پی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ عام آدمی پارٹی کی محاذی تنظیم، جسے انہوں نے سی جے پی کہا، ان سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن گروپوں پر بیرون ملک سے مالی مدد حاصل کرنے کا الزام لگایا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے غیر ملکی مالی معاون جارج سوروس کا حوالہ بھی دیا۔
رام چندر راؤ نے سوال اٹھایا کہ مبینہ طور پر یہ رقم متعلقہ گروپوں تک کیسے پہنچی۔ انہوں نے میری مل بین کے ٹوئٹ کو بیرونی ایجنسیوں کے ممکنہ کردار کی نشاندہی قرار دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں تھی۔
ان کے الزامات کا مرکز بیرونی فنڈنگ، اپوزیشن گروپوں اور ملک میں بدامنی کے مبینہ روابط تھے۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات سے فنڈنگ کے انتظامات کی تصدیق نہیں ہوتی۔ نہ ہی ان میں متعلقہ تنظیموں کے مبینہ کردار کا کوئی آزادانہ ثبوت پیش کیا گیا ہے۔
