حیدرآباد میں فاسٹ ٹیگ کے ذریعے چالان وصولی!| FASTag Challans
حیدرآباد:۔ حیدرآباد میں ٹریفک جرمانوں کی وصولی کے لیے نئے نظام پر غور جاری ہے۔ متعلقہ حکام فاسٹ ٹیگ کے ذریعے چالان وصول کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یوں جرمانوں کی وصولی مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ٹریفک محکمہ نے ایچ ایم ڈی اے کے مجوزہ نظام پر ابتدائی تبادلۂ خیال کیا۔ مزید برآں ایچ ایم ڈی اے اس طریقۂ کار کی افادیت کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
مجوزہ ماڈل کے تحت ٹریفک خلاف ورزی کو متعلقہ موٹرسٹ کے فاسٹ ٹیگ اکاؤنٹ سے جوڑا جائے گا۔ اس کے علاوہ مقررہ مدت کے اندر جرمانہ فاسٹ ٹیگ والیٹ سے وصول کیا جا سکے گا۔ اس عمل میں براہ راست پولیس مداخلت کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
حکام مختلف تکنیکی پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم نظام کو نافذ کرنے سے پہلے تمام عملی تقاضے مکمل کیے جائیں گے۔ اسی دوران متعلقہ ادارے مختلف امکانات کا جائزہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مجوزہ نظام کی جانچ | FASTag Challans
ایچ ایم ڈی اے اس منصوبے کی عملی افادیت کا جائزہ لے رہا ہے۔ مزید برآں حکام ٹیکنالوجی کی کارکردگی کو بھی پرکھ رہے ہیں۔ ہر مرحلے کا تفصیلی مطالعہ کیا جا رہا ہے۔
اس نظام کا مقصد جرمانوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔ لہٰذا خودکار ادائیگی کے طریقۂ کار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یوں ٹریفک قوانین پر بہتر عمل درآمد کی توقع کی جا رہی ہے۔
متعلقہ حکام موجودہ الیکٹرانک ٹول انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ فاسٹ ٹیگ نیٹ ورک سے رابطے کے امکانات بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
اہم سڑکوں سے انضمام | FASTag Challans
حکام شہر کی بڑی شاہراہوں کو بھی اس نظام سے جوڑنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مزید برآں آؤٹر رنگ روڈ کو اہم مقامات میں شامل کیا گیا ہے۔ انضمام کی صورت میں نظام مزید مؤثر بن سکتا ہے۔
ٹریفک محکمہ مختلف آپریشنل ضروریات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم تمام پہلوؤں کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی دوران مختلف اداروں کے درمیان رابطہ جاری ہے۔
حتمی فیصلہ ابھی باقی | FASTag Challans
ایچ ایم ڈی اے نے تاحال نفاذ کی کوئی تاریخ جاری نہیں کی۔ مزید برآں مجوزہ نظام بدستور جائزے کے مرحلے میں ہے۔ آئندہ پیش رفت کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد موجودہ فاسٹ ٹیگ انفراسٹرکچر سے بہتر فائدہ اٹھانا ہے۔ لہٰذا تمام تکنیکی اور انتظامی تقاضوں کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد ہی اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔
