ریونت ریڈی کا ایس آئی آر مدت بڑھانے کا مطالبہ | Electoral Roll
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے ایس آئی آر کے تحت دعوؤں اور اعتراضات کی مدت 4 ہفتے بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہفتہ کو الیکشن کمیشن کو ایک خط ارسال کیا۔
وزیر اعلیٰ نے حتمی انتخابی فہرستوں کی اشاعت کے لیے بھی مزید وقت دینے کی اپیل کی۔ مزید برآں، انہوں نے جاری خصوصی جامع نظرثانی کے شیڈول پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔
اے ریونت ریڈی نے 73.39 لاکھ ووٹر اندراجات پر تشویش ظاہر کی۔ ان اندراجات کو غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور نقل شدہ یعنی اے ایس ڈی ڈی کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں ایسے ووٹر بھی شامل ہو سکتے ہیں جو عارضی طور پر اپنے رہائشی مقام سے باہر گئے ہوں۔ لہٰذا ایسے افراد کو مستقل طور پر منتقل شدہ تصور کرنا درست نہیں ہوگا۔
ووٹروں کو مزید وقت دینے کی اپیل | Electoral Roll
اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ووٹروں کو نوٹس کا جواب دینے کے لیے مناسب وقت ملنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، انہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کا بھی پورا موقع دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اہل ووٹروں کے نام غلطی سے انتخابی فہرست سے خارج نہیں ہونے چاہییں۔ چنانچہ انہوں نے دعوؤں اور اعتراضات کی مدت مزید 4 ہفتے بڑھانے کی درخواست کی۔
مزید برآں، وزیر اعلیٰ نے حتمی انتخابی فہرستوں کی اشاعت میں بھی توسیع کا مطالبہ کیا۔ یوں ووٹروں کو تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت مل سکے گا۔
موجودہ ایس آئی آر شیڈول | Electoral Roll
الیکشن کمیشن نے پہلے ہی تلنگانہ میں ایس آئی آر کا نظرثانی شدہ شیڈول جاری کیا تھا۔ مردم شماری کا عمل 3 اگست تک جاری رہا۔
اس کے بعد 10 اگست کو ابتدائی انتخابی فہرست شائع کی گئی۔ اسی دوران، دعوؤں اور اعتراضات کا مرحلہ 10 اگست سے 9 ستمبر تک مقرر کیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے حتمی انتخابی فہرست 12 اکتوبر کو جاری کرنے کا شیڈول بنایا ہے۔ تاہم، وزیر اعلیٰ نے اب ان دونوں مراحل میں توسیع کی درخواست کی ہے۔
اہل ووٹروں کے نام محفوظ رکھنے پر زور | Electoral Roll
اے ریونت ریڈی نے کہا کہ اے ایس ڈی ڈی اندراجات کی بڑی تعداد خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ اس کے علاوہ، ہر اہل ووٹر کو اپنی معلومات درست کرانے کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔
انہوں نے الیکشن کمیشن سے دعوؤں اور اعتراضات جمع کرانے کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کی۔ لہٰذا حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت بھی مؤخر کرنے کی اپیل کی گئی۔
یہ درخواست ایس آئی آر کے تحت جاری انتخابی فہرستوں کی جانچ کے دوران سامنے آئی ہے۔ مزید برآں، وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ نظرثانی کے عمل میں ہر اہل ووٹر کا نام محفوظ رکھا جائے۔
