جعلی ای سی آئی پیغامات سے محتاط رہیں | Election Safety
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے چیف الیکٹورل افسر سی سدرشن ریڈی نے ووٹروں کو جعلی ای سی آئی واٹس ایپ پیغامات سے محتاط رہنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ سائبر فراڈ کرنے والے افراد الیکشن کمیشن آف انڈیا کے نام پر گمراہ کن پیغامات بھیج رہے ہیں۔ ان کا مقصد شہریوں کی مالی معلومات حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض پیغامات میں ووٹر تفصیلات اور مردم شماری فارم میں مبینہ غلطیوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، کچھ پیغامات میں فارم مسترد ہونے کی جھوٹی اطلاع بھی دی جا رہی ہے۔ ان پیغامات کے ذریعے لوگوں کو ایک لنک پر کلک کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
چیف الیکٹورل افسر نے ووٹروں کو ایسے لنکس ہرگز نہ کھولنے کی ہدایت دی۔ اسی دوران، انہوں نے کہا کہ بعض جعلی پیغامات میں تصدیقی عمل مکمل کرنے کے لیے ₹5 کی ادائیگی بھی طلب کی جا رہی ہے۔
بینک معلومات چوری کرنے کی کوشش | Election Safety
سی سدرشن ریڈی نے کہا کہ فراڈی افراد نیٹ بینکنگ، کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کی تفصیلات بھی مانگ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ معلومات حاصل کرکے وہ مالی فراڈ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کی تلقین کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے لنکس سے لاگ اِن تفصیلات، پاس ورڈز اور اے ٹی ایم پن بھی چوری ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی مشکوک لنک پر کلک نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مالی معلومات کسی صورت شیئر نہ کی جائیں۔
الیکشن کمیشن نے وضاحت کردی | Election Safety
چیف الیکٹورل افسر نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا اس نوعیت کے پیغامات نہیں بھیجتا۔ مزید برآں، کمیشن کبھی بھی ووٹروں سے بینکنگ معلومات یا ادائیگی طلب نہیں کرتا۔ تلنگانہ چیف الیکٹورل آفس بھی ایسی کوئی معلومات حاصل نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو اس قسم کا پیغام یا کال موصول ہو تو فوری احتیاط برتی جائے۔ یوں ووٹر اپنی ذاتی اور مالی معلومات محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے ہر انتخابی پیغام کی تصدیق کرنے کی اپیل بھی کی۔
مشکوک پیغامات فوری رپورٹ کریں | Election Safety
سی سدرشن ریڈی نے ووٹروں سے کہا کہ مشکوک پیغامات یا کالز موصول ہونے پر قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کریں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے عوام کو غیر معروف ذرائع سے موصول ہونے والے لنکس سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں الیکشن کمیشن کے نام پر جعلی پیغامات گردش کر رہے ہیں۔ چنانچہ ووٹروں کو کسی بھی کارروائی سے پہلے معلومات کی تصدیق ضرور کرنی چاہیے۔ انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ انتخابی ادارے کبھی بھی پیغامات یا کالز کے ذریعے بینکنگ اسناد طلب نہیں کرتے۔
