کشن ریڈی کی کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید | Election Commission Row
حیدرآباد:۔ مرکزی وزیر کشن ریڈی نے دہلی میں کانگریس کے احتجاج اور انتخابی فہرستوں سے متعلق الزامات پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں پر جمہوری حقوق کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ منگل کو دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔
کشن ریڈی نے لوک سبھا اسپیکر کے استعفے کے مطالبے پر ماضی میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان مظاہروں سے اپوزیشن کو عوام کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو نشانہ بنانے پر بھی اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
مرکزی وزیر نے سوال کیا کہ کیا ہندوستان گاندھی خاندان کی ذاتی جاگیر ہے؟ انہوں نے راہل گاندھی پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے کا الزام لگایا۔ کشن ریڈی کے مطابق، عوام راہل گاندھی کے طرز عمل کو دیکھ رہے ہیں اور اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
انتخابی کمیشن اور تلنگانہ حکومت پر الزامات | Election Commission Row
کشن ریڈی نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر متضاد بیانات دینے کا الزام لگایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وزیر اعلیٰ راہل گاندھی کے بیانیے کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر مسلم اقلیتوں کو پسماندہ طبقات میں شامل کرنے کے معاملے کو اس انداز میں پیش کرنے کا الزام بھی لگایا، جس سے مسلم اور ہندو پسماندہ طبقات میں تقسیم پیدا ہوئی۔
مرکزی وزیر کے مطابق، اس طرز عمل سے پسماندہ طبقات کے مفادات کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے ہندو مذہبی شخصیات کے سیاسی حوالوں پر بھی کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کشن ریڈی نے الزام لگایا کہ پارٹی بھگوان رام اور بھگوان شیو کے ذکر پر متضاد مؤقف اختیار کرتی ہے۔
انہوں نے دہلی احتجاج کے معاملے میں بھی اے ریونت ریڈی کو نشانہ بنایا۔ کشن ریڈی کا دعویٰ تھا کہ تلنگانہ حکومت مظاہروں پر پابندیاں عائد کرتی ہے اور احتیاطی طور پر گرفتاریاں بھی کرتی ہے۔ تاہم، ان الزامات پر کانگریس یا تلنگانہ حکومت کا مؤقف اس بیان میں شامل نہیں تھا۔
کشن ریڈی نے انتخابی شکستوں کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کو ٹھہرانے کی کانگریس کی کوشش مسترد کردی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹروں کو سیاسی جماعتوں کو مسترد کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق، ہر انتخابی شکست کے بعد انتخابی ادارے کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔
ووٹر فہرستوں میں نام حذف کرنے کا تنازع | Election Commission Row
کشن ریڈی نے راہل گاندھی کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ تقریباً 200 عہدیدار ان کے رابطے میں ہیں اور وزیر اعظم مودی کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ مرکزی وزیر نے پوچھا کہ راہل گاندھی ایسے بیانات کے ذریعے کس کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر کشن ریڈی نے کانگریس سے غلط طریقے سے نام حذف کیے جانے کے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بوتھ لیول ایجنٹس (بی ایل اے) کو غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح کی درخواست دینے کا موقع حاصل ہے۔ ان کے مطابق، کانگریس کے مقرر کردہ ایجنٹس کو دستیاب طریقہ کار کے ذریعے مبینہ غلطیوں کی اصلاح کرانی چاہیے تھی۔
کشن ریڈی نے گجرات، مہاراشٹر، راجستھان اور تریپورہ میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کانگریس کی شکستوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں بیلٹ پیپر استعمال ہوئے تھے۔ اس لیے ان کے نتائج کا ذمہ دار چیف الیکشن کمشنر یا مرکزی الیکشن کمیشن کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
انہوں نے 2014، 2019 اور 2024 کے انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا۔ کشن ریڈی کے مطابق، موجودہ ایس آئی آر تنازع ان برسوں میں پارٹی کی انتخابی شکستوں کی وضاحت نہیں کرسکتا۔
دہلی احتجاج، عوامی زندگی اور کانگریس کی سیاسی تاریخ | Election Commission Row
کشن ریڈی نے کانگریس پر تہوار کے موسم میں دہلی میں عوامی زندگی متاثر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنتر منتر کے قریب مظاہروں سے سڑکیں بند ہوئیں اور چھوٹے تاجروں کو مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ غیر ملکی قوتیں ہندوستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہی ہیں۔
مرکزی وزیر نے کانگریس پر بدعنوانی کی تاریخ رکھنے اور اہم رہنماؤں کی بے عزتی کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ، بی آر امبیڈکر اور این ٹی راما راؤ کی مثالیں پیش کیں۔ کشن ریڈی کے مطابق، کانگریس کا سیاسی ریکارڈ ووٹروں کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کی وجوہات میں شامل ہے۔
