El Nino Crisis
حیدرآباد:۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما گڈور نارائن ریڈی نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس حکومت ایل نینو بحران سے نمٹنے کے لیے تلنگانہ کو تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے پاس پانی کے انتظام کا کوئی جامع منصوبہ موجود نہیں۔ مزید برآں ان کا دعویٰ تھا کہ طویل خشک سالی سے نمٹنے کے لیے بھی حکومت نے کوئی مؤثر حکمت عملی تیار نہیں کی۔
گڈور نارائن ریڈی نے کہا کہ سائنسی اداروں نے کئی ماہ پہلے ایل نینو کے ممکنہ اثرات سے خبردار کیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق حکومت نے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے۔
پانی کے ذخائر بھرنے پر زور | El Nino Crisis
بی جے پی رہنما نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف اعلانات تک محدود نہ رہے۔ لہٰذا پانی کے شدید بحران سے بچنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی دریائے گوداوری میں پانی کی سطح اجازت دے تو مسلسل پمپنگ کی جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبی ذخائر، بیلنسنگ ریزروائرز، جھیلوں اور آبپاشی کے تمام ڈھانچوں میں زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ دریائے گوداوری اور دریائے کرشنا کے ہر ممکنہ قطرے کو محفوظ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کی شدید کمی کے دوران پانی کو سمندر میں جانے سے روکنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
مزید برآں گڈور نارائن ریڈی نے کہا کہ جہاں تکنیکی طور پر ممکن ہو وہاں تمام دستیاب پمپنگ سسٹمز کو 24 گھنٹے چلایا جائے۔ انہوں نے میڈی گاڈا بیراج سے متعلق تکنیکی اور انتظامی مسائل فوری حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ دریا میں پانی کی مناسب سطح ہونے پر کنی پلی پمپ ہاؤس کو مسلسل چلایا جائے تاکہ آبپاشی اور پینے کے لیے ہر ممکن ٹی ایم سی پانی ذخیرہ کیا جا سکے۔
طویل مدتی آبی تحفظ کی ضرورت | El Nino Crisis
گڈور نارائن ریڈی نے کہا کہ موسمی پیش گوئیوں کے مطابق ایل نینو کی صورتحال موجودہ مون سون کے بعد بھی برقرار رہ سکتی ہے اور 2027 کے ابتدائی مہینوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ چنانچہ حکومت کو اس مسئلے کو صرف موسمی چیلنج نہیں بلکہ طویل مدتی آبی تحفظ کے مسئلے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق زیر زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے، آبی ذخائر سکڑ رہے ہیں اور کئی اضلاع میں بارش معمول سے کم ہوئی ہے۔ لہٰذا انہوں نے دریا کے بہاؤ کو محفوظ بنانے، آبی ذخائر اور جھیلوں سے مٹی نکالنے، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے ڈھانچوں کو مضبوط بنانے، فیڈر نہروں کی بحالی اور تمام دستیاب ذخائر بھرنے کے لیے ہنگامی پروگرام شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈیٹا سینٹرز اور پانی کی دستیابی | El Nino Crisis
گڈور نارائن ریڈی نے مصنوعی ذہانت کی سرمایہ کاری اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے متعلق حکومتی پالیسی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پہلے ریاست کے لیے طویل مدتی آبی تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ اس کے بعد ہی پانی پر زیادہ انحصار کرنے والی صنعتوں کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز کی ٹھنڈک اور مسلسل آپریشن کے لیے بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔ مزید برآں اگر ایل نینو کی صورتحال برقرار رہی تو حکومت کو ایسے منصوبوں کے لیے پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
آخر میں گڈور نارائن ریڈی نے کہا کہ صنعتی ترقی پینے کے پانی اور کسانوں کے مفادات کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ یوں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پینے کے پانی، زراعت اور صنعت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع آبی انتظامی پالیسی اختیار کی جائے۔ انہوں نے بارش کی پیش گوئی اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی بنیاد پر آبی ذخائر کا مسلسل جائزہ لینے پر بھی زور دیا۔
