الیکشن کمیشن کے حلف نامے پر رام چندر راؤ کا ردعمل | ECI Affidavit Row
حیدرآباد:۔ تلنگانہ بی جے پی صدر رام چندر راؤ نے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے جوابی حلف نامے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حلف نامے نے کانگریس کے مبینہ بے بنیاد الزامات کو بے نقاب کردیا ہے۔ حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس اور اس کے اتحادیوں پر سیاسی فائدے کے لیے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔
رام چندر راؤ نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے حلف نامے کے تناظر میں اپنی ذمہ داری قبول کرے۔ مزید برآں، انہوں نے عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، کانگریس نے بار بار غلط دعوے کرکے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس کے ارکان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے آئینی ادارے میں اندرونی اختلافات کا دعویٰ کرکے عوام کو گمراہ کیا۔ تاہم، یہ مؤقف رام چندر راؤ نے میڈیا سے گفتگو میں پیش کیا۔
ووٹر فہرستوں اور اندراج کے طریقہ کار پر وضاحت | ECI Affidavit Row
رام چندر راؤ کے مطابق، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں انتخابی فہرستوں میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ حلف نامے میں فارم 6 اور ووٹروں کے اندراج کے طریقہ کار کی وضاحت بھی شامل تھی۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ کمیشن نے قانونی قواعد کے مطابق کارروائی کرنے کی وضاحت کی ہے۔
بی جے پی صدر نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن کے حلف نامے نے انتخابی ادارے کے خلاف لگائے گئے الزامات کا جواب دیا ہے۔ ان کے مطابق، کانگریس اور اس کے اتحادی سیاسی مقاصد کے لیے کمیشن کی ساکھ متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے کانگریس سے اپنے سابقہ دعووں کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔
رام چندر راؤ نے کہا کہ کانگریس کو عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ پارٹی عوام کے سامنے اپنے الزامات کی وضاحت کرے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات پر عوامی معافی مانگنے پر زور دیا۔
