ورنگل ڈرینیج منصوبے کے لیے فارم-اے استثنیٰ | Drainage Infrastructure
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت نے ورنگل کے جامع انڈر گراؤنڈ ڈرینیج منصوبے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے آر ایف سی ٹی ایل اے آر اینڈ آر ایکٹ، 2013 کے تحت فارم-اے استثنیٰ کی منظوری دی۔ مزید برآں، یہ فیصلہ منصوبے کے لیے درکار نجی اراضی کے حصول سے متعلق ہے۔
اس سلسلے میں حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے احکامات بھی دیے ہیں۔ اسی دوران متعلقہ محکموں کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ اقدام منصوبے کے اگلے مرحلے کی تیاری کا حصہ ہے۔
گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن اس وقت جامع انڈر گراؤنڈ ڈرینیج منصوبے کی تفصیلی پراجیکٹ رپورٹ تیار کر رہی ہے۔ لہٰذا مختلف بنیادی ڈھانچوں کے لیے اراضی کی ضرورت کا جائزہ بھی جاری ہے۔
مختلف بنیادی سہولتوں کے لیے اراضی درکار | Drainage Infrastructure
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق منصوبے میں کئی اہم سہولتیں شامل ہیں۔ ان میں سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹس، سیویج پمپنگ اسٹیشنز، سیپٹک ٹینکس اور لفٹ اسٹیشنز شامل ہیں۔
ان تمام سہولتوں کی تعمیر کے لیے نجی اراضی حاصل کی جائے گی۔ مزید برآں، فارم-اے استثنیٰ اسی مقصد کے تحت دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس عمل کو قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اراضی کے حصول کے لیے گزٹ میں باضابطہ اشاعت کی جائے گی۔ یوں قانونی عمل کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہوگا۔

منصوبہ ابھی ڈی پی آر مرحلے میں | Drainage Infrastructure
گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن ابھی منصوبے کی تفصیلی پراجیکٹ رپورٹ تیار کر رہی ہے۔ اسی دوران مختلف مقامات کی تکنیکی جانچ بھی جاری ہے۔ منصوبے کی حتمی منظوری کے بعد اگلے مراحل شروع کیے جائیں گے۔
حکومت کے مطابق نجی اراضی کا حصول منصوبے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ انڈر گراؤنڈ ڈرینیج نظام کی تکمیل کے لیے مختلف ڈھانچوں کی تعمیر بھی ضروری ہوگی۔
مزید تفصیلات کا انتظار | Drainage Infrastructure
سرکاری نوٹیفکیشن میں اراضی کے مخصوص رقبے کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ اسی طرح معاوضے، منصوبے کی لاگت یا تعمیراتی مدت کے بارے میں بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
فی الحال نوٹیفکیشن کا مرکز فارم-اے استثنیٰ اور اس کی گزٹ اشاعت ہے۔ مزید برآں، منصوبے سے متعلق دیگر تفصیلات بعد کے مراحل میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ تازہ فیصلہ ورنگل کے جامع انڈر گراؤنڈ ڈرینیج منصوبے کے لیے ایک اہم انتظامی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ یوں منصوبے کے لیے درکار قانونی کارروائی آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
