Dharani SIT Probe
حیدرآباد:۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے دھرانی اور بھو بھارتی زمینی ریکارڈ نظام کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت سے دونوں پلیٹ فارمز میں مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کرانے کی اپیل کی۔
این رام چندر راؤ نے منگل کے روز بی جے پی کے ریاستی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) عوام کی توجہ زمین سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کالیشورم پر سیاست کا الزام | Dharani SIT Probe
رام چندر راؤ نے کہا کہ کنی پلی اور کالیشورم کے معاملات کو سیاسی بحث کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالیشورم منصوبے پر بی جے پی کا مؤقف نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے حکومت سے ماہرین کی سفارشات کے مطابق فوری مرمتی کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے کسانوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ چنانچہ حکومت کو محاذ آرائی کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔
تاتی چرلہ-2 کول بلاک پر بیان | Dharani SIT Probe
رام چندر راؤ نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے تاتی چرلہ-2 کول بلاک بغیر نیلامی سنگارینی کو الاٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے تقریباً ₹64,000 کروڑ کی آمدنی حاصل ہوگی اور قریب 1,200 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے اس کامیابی کا سہرا مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو دیا۔ مزید برآں انہوں نے کانگریس کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ منصوبہ اس کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
رام چندر راؤ نے سوال کیا کہ اگر کانگریس کا دعویٰ درست تھا تو متحدہ ترقی پسند اتحاد کے دور میں یہ کول بلاک کیوں الاٹ نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے مرکزی حکومت اور جی کشن ریڈی کا شکریہ بھی ادا کیا۔
