خشک سالی کے دعووں پر کانگریس کی بی آر ایس پر تنقید | BRS Drought Claims
حیدرآباد:۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ چمالا کرن کمار ریڈی نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے رہنماؤں پر خشک سالی سے متعلق دعووں کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن رہنما تلنگانہ میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہونے کے خواہاں ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے بی آر ایس پر عوامی مسائل کے بجائے مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
بھونگیر کے رکن پارلیمنٹ نے پیر کے روز گاندھی بھون میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ چمالا نے ان کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور ان کی داڑھی پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا داڑھی رکھنے سے پختگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
بی آر ایس کے دعووں اور میڈی گڈہ بیراج پر تنقید | BRS Drought Claims
چمالا کرن کمار ریڈی نے میڈی گڈہ بیراج کی حالت پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق، یہ ڈھانچہ اس وقت پانی ذخیرہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ال نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث تلنگانہ میں بارش اور پانی کی دستیابی کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بی آر ایس کے خشک سالی سے متعلق دعووں کو سیاسی مفادات سے جوڑا۔ تاہم، ان کے الزامات اور بیراج کی موجودہ حالت سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں شامل نہیں ہے۔ اس لیے ان بیانات کو چمالا کے موقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
28 اکتوبر کو کل جماعتی اجلاس کا اعلان | BRS Drought Claims
چمالا کرن کمار ریڈی نے ال نینو کے خدشات کے درمیان تلنگانہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے 28 اکتوبر کو کل جماعتی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں مختلف جماعتوں کے نمائندے اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ اس کے بعد حکومت آئندہ اقدامات پر غور کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تمام فریقوں کی تجاویز کا جائزہ لے گی۔ تاہم، انہوں نے اجلاس کے بعد ممکنہ اقدامات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ یوں مجوزہ اجلاس کا مقصد ریاست کو درپیش صورتحال پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
چمالا کی تنقید کا مرکزی نکتہ بی آر ایس کے خشک سالی سے متعلق دعوے، میڈی گڈہ بیراج کی حالت اور سیاسی مشاورت کی ضرورت رہا۔ لہٰذا، 28 اکتوبر کا اجلاس ریاست میں بارش، آبی وسائل اور ال نینو کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرے گا۔
