حیدرآباد:۔ حیدرآباد پولیس نے سابق آئی پی ایس افسر ونئے رنجن رے کی اہلیہ تنوجا کے قتل کے معاملے میں 5 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ گرفتاریاں تقریباً 5 ماہ کی تحقیقات کے بعد عمل میں آئیں۔ پولیس کی خصوصی ٹیموں نے ملزمین کی تلاش میں نیپال کے کئی دورے کیے۔
پولیس نے مرکزی ملزمہ کلپنا کو بھی گرفتار کیا، جس پر قتل کے بعد ملک سے فرار ہونے کا الزام ہے۔ اس کے ساتھ 4 دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق، کلپنا نیپال کی شہری ہے اور سابق افسر کے گھر میں کام کرتی تھی۔
پرشاسن نگر میں قتل اور زیورات کی چوری | Retired IPS Murder Case
یہ قتل 7 مئی کو جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع پرشاسن نگر میں ونئے رنجن رے کی رہائش گاہ پر پیش آیا۔ تفتیشی تفصیلات کے مطابق، کلپنا نے مبینہ طور پر 4 ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس واردات کو انجام دیا۔ ملزمین پر الزام ہے کہ انہوں نے تنوجا کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر انہیں قتل کیا۔
اس کے بعد ملزمین گھر سے سونا، نقد رقم اور دیگر قیمتی اشیا لے کر فرار ہوگئے۔ پولیس کے مطابق، وہ بہار کی سرحد کے راستے نیپال کی طرف نکل گئے۔ یوں بین الاقوامی سرحد پار کرنے سے ملزمین کی تلاش اور گرفتاری کا عمل مزید پیچیدہ ہوگیا۔
حیدرآباد کے پولیس کمشنر سجنار اور ٹاسک فورس کے ڈپٹی کمشنر ویبھو گائیکواڑ نے اس معاملے کو ترجیح دی۔ انہوں نے ملزمین کا سراغ لگانے کے لیے 3 خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ تاہم، ملزمین کے ملک سے باہر فرار ہونے کے باعث پولیس کو تحقیقات میں اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
نیپال میں خصوصی ٹیموں کی کارروائی اور گرفتاریاں | Retired IPS Murder Case
تقریباً 5 ماہ کے دوران پولیس کی خصوصی ٹیموں نے ملزمین کی تلاش میں 3 مرتبہ نیپال کا دورہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، افسران نے توجہ سے بچنے کے لیے عام شہریوں کی طرح نقل و حرکت کی۔ انہوں نے سراغ حاصل کرنے کے لیے ہیئر سیلون، زیورات کی دکانوں اور کھانے پینے کے مراکز پر بھی نظر رکھی۔
اسی دوران، تفتیش کاروں نے نیپال میں مقیم ہندوستانی نژاد افراد سے رابطے قائم کیے۔ ان روابط کے ذریعے ملزمین کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں۔ مزید برآں، پولیس نے مقامی حکام کے ساتھ تعاون کیا اور کارروائی کے دوران نیپال کے قوانین اور بین الاقوامی طریقہ کار کی پابندی کی۔
تحقیقات میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب پولیس کو اطلاع ملی کہ کلپنا کا بیٹا ممبئی جا رہا ہے۔ پولیس نے اسے حراست میں لیا اور تحقیقات سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کلپنا کو ہندوستان واپس لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق، کلپنا سے حاصل ہونے والی معلومات نے باقی 4 ملزمین تک پہنچنے میں مدد کی۔ تفتیش کاروں کو یہ بھی پتہ چلا کہ ملزمین میں سے ایک شخص مبینہ طور پر نیپال سے دہلی گیا تھا۔ اس پر دہلی میں ایک اور چوری کی واردات میں مدد کرنے اور بعد میں نیپال واپس جانے کا الزام ہے۔
پانچوں ملزمین کی گرفتاری کے بعد پولیس نے انہیں اگلے روز ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کرنے کی تیاری کی۔ اس معاملے کی تحقیقات میں قتل، قیمتی اشیا کی مبینہ چوری اور ہندوستان-نیپال سرحد کے پار ملزمین کی نقل و حرکت کے پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
