ہاسٹل سپلائی ٹینڈروں پر ہریش راؤ کے سنگین الزامات | Hostel Supply Tenders
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے سابق وزیر اور بی آر ایس مقننہ پارٹی کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے سرکاری رہائشی اسکولوں اور فلاحی ہاسٹلوں کے لیے ضروری اشیا کی خریداری کے ٹینڈروں کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کا مرکزی خریداری نظام مقامی سپلائرز اور ان کے خاندانوں کے روزگار کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔
تلنگانہ گروکلم کنٹریکٹرس ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے حیدرآباد میں ہریش راؤ کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ نمائندوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کا نظام مقامی سپلائرز کی روزی روٹی متاثر کرے گا۔ اس ملاقات کے بعد ہریش راؤ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹینڈر کے عمل پر کئی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے 800 کروڑ روپے کے ٹینڈر عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ناکوف کو ترجیح دی، حالانکہ ان کے مطابق اس ادارے کو اوڈیشہ، جھارکھنڈ اور تلنگانہ کے محکمہ سول سپلائیز میں بلیک لسٹنگ اور 65 کروڑ روپے کی ضمانتی رقم ضبط ہونے جیسے معاملات کا سامنا رہا ہے۔
ٹینڈر عمل، ذیلی ٹھیکوں اور کمیشن پر الزامات | Hostel Supply Tenders
ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ ٹھیکیدار نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 12 فریقوں کو ذیلی ٹھیکے دیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس انتظام کے تحت ہر ضلع میں 2 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 66 کروڑ روپے بنتی ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ متعلقہ عہدیداروں یا دیگر افراد نے بلوں پر ماہانہ 20 فیصد کمیشن وصول کیا۔
یہ الزامات ہریش راؤ نے ٹینڈر نظام پر تنقید کرتے ہوئے لگائے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ اداروں کا جواب فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
بی آر ایس رہنما نے اس خریداری ماڈل کو اختیار کرنے پر بھی سوال اٹھایا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آندھرا پردیش میں یہ ناکام رہا تھا۔ ان کے مطابق، وہاں حکام نے صرف 3 ماہ کے اندر اس نظام کو ختم کردیا تھا۔
ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ تلنگانہ میں ان معاہدوں کے تحت اشیا کی قیمتیں مقامی بازار کی شرح سے 35 فیصد سے 45 فیصد زیادہ رکھی گئی ہیں۔ اس کے باوجود، ان کے دعوے کے مطابق، ٹھیکیدار 4,000 ہاسٹلوں کو ضروری اشیا مناسب طور پر فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
مقامی خریداری کی بحالی کا مطالبہ | Hostel Supply Tenders
ہریش راؤ نے ان مبینہ سپلائی خامیوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابقہ خریداری نظام بحال کیا جائے، جس کے تحت ہر اسکول کو خریداری کی الگ اکائی سمجھا جاتا تھا۔ ان کے مطابق، اس طریقے سے مقامی ضرورتوں کے مطابق سامان کی فراہمی ممکن ہوگی۔
ان کی تجویز کے تحت ضلعی خریداری کمیٹیاں (ڈی پی سی) ضروری اشیا کی خریداری کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔ یہ کمیٹیاں مقامی سپلائرز کو سامان فراہم کرنے کے کام بھی تفویض کریں گی۔ ہریش راؤ کا کہنا تھا کہ اس طریقے سے چھوٹے کاروباروں کو مدد ملے گی اور مقامی تاجروں کے لیے روزگار کے مواقع برقرار رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر خریداری سے ہاسٹلوں میں زیر تعلیم طلبہ کو تازہ اور معیاری اشیا فراہم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ مرکزی نظام طلبہ کی فلاح و بہبود کے ساتھ مقامی تاجروں کے روزگار کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
ہریش راؤ نے حکومت سے پی ایم یو ٹینڈروں کو واپس لینے اور مقامی خریداری کا نظام بحال کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہیں لیا تو بی آر ایس بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرے گی۔ ان کا بنیادی مطالبہ ٹینڈروں کی فوری منسوخی اور ضلع وار خریداری کی بحالی ہے۔
