داسوجو سراون کا انتظامی جوابدہی کا مطالبہ | Administrative Accountability
حیدرآباد:۔ بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل داسوجو سراون نے انتظامی جوابدہی کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سرکاری افسران کی مبینہ بے حسی اور پروٹوکول خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کے ساتھ ادارہ جاتی احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔
داسوجو سراون نے یہ مطالبات قانون ساز کونسل کی استحقاق کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایم ایل سی حضرات رسمی اعزازات کے خواہش مند نہیں ہیں۔ تاہم سرکاری افسران کو عوامی مسائل پر منتخب نمائندوں کی درخواستوں کا بروقت جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ایم ایل سی کے خط کا اعتراف بھی نہ کیا جائے تو عام شہری حکومت سے جواب کی کیسے توقع رکھ سکتا ہے۔ اسی دوران، انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام ادارہ جاتی جوابدہی اور باہمی احترام پر قائم رہتا ہے۔
قانون سازوں کے حقوق کے تحفظ پر زور | Administrative Accountability
داسوجو سراون نے استحقاق کمیٹی سے مضبوط نظیر قائم کرنے کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ انتظامی مشینری کو قانون ساز اداروں کے سامنے جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہی جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔
انہوں نے قانون ساز کونسل سیکریٹریٹ سے استحقاق کے حقوق کی واضح تشریح جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ تمام ارکان کو اپنے آئینی حقوق اور تحفظات سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔
انہوں نے حلقہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں ایم ایل سیز کے لیے مساوی سلوک کا بھی مطالبہ کیا۔ لہٰذا قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے درمیان مساوات برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بلوں، انکوائری رپورٹس اور پالیسی دستاویزات پیش کرنے میں بھی برابری کا مطالبہ کیا۔
پروٹوکول اور آر ٹی آئی معاملات پر اعتراض | Administrative Accountability
داسوجو سراون نے الزام لگایا کہ بعض افسران نے آئینی عہدوں سے متعلق پروٹوکول کی خلاف ورزی کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ بعض سرکاری پروگراموں سے منتخب نمائندوں کو جان بوجھ کر دور رکھا گیا۔ انہوں نے اس طرز عمل پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے قانون سازوں کی جانب سے دائر آر ٹی آئی درخواستوں کا بھی ذکر کیا۔ مزید برآں، ان کا کہنا تھا کہ بعض درخواستوں کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے اسے شفاف طرز حکمرانی کے منافی قرار دیا۔
نامپلی عدالت کے واقعہ کا ذکر | Administrative Accountability
داسوجو سراون نے نامپلی عدالت میں پیش آئے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپنی شناخت ظاہر کرنے کے باوجود پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا۔ ان کے مطابق وہ ایک ایم ایل سی اور پیشہ ور وکیل بھی ہیں۔
انہوں نے استحقاق کمیٹی سے ایسے معاملات پر سخت کارروائی کی اپیل کی۔ چنانچہ انہوں نے واضح قواعد وضع کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ انتظامیہ قانون ساز اداروں کے سامنے جوابدہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی شکایات پر فوری کارروائی ضروری ہے۔
داسوجو سراون نے کہا کہ وہ خصوصی پروٹوکول یا رسمی اعزاز نہیں چاہتے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے صرف قانون سازوں کے آئینی حقوق کے احترام اور سرکاری محکموں کی بروقت جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق مضبوط جمہوریت کے لیے فعال اور جوابدہ انتظامیہ ناگزیر ہے۔
