حیدرآباد ۔ حیدرآباد میٹرو کے دوسرے مرحلے کے منصوبے کو اس وقت اہم پیش رفت حاصل ہوئی جب تلنگانہ حکومت اور مرکزی حکومت نے میٹرو ریل فیز اول کے مجوزہ حصول اور توسیعی منصوبے پر تفصیلی مطالعے کے آغاز پر اتفاق کر لیا۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور مرکزی وزرا کے درمیان نئی دہلی میں ہونے والی متعدد ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا۔
دونوں حکومتوں نے مشترکہ طور پر ایس بی آئی کیپس کو میٹرو ریل فیز اول کی مالیت کا تخمینہ لگانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ مزید برآں مشاورتی ادارہ مجوزہ توسیعی منصوبے پر ایک جامع رپورٹ بھی تیار کرے گا، جس میں حصول کے لیے درکار قرض، مالی ضروریات اور ممکنہ مالیاتی اداروں کا جائزہ لیا جائے گا۔
اے ریونت ریڈی نے 2 روز کے دوران مرکزی وزیر برائے ہاؤسنگ و شہری امور منوہر لال کھٹر اور مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو سے تفصیلی بات چیت کی۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے فیز اول کے حصول میں درپیش مسائل اور توسیعی منصوبے کے آغاز میں حائل رکاوٹوں سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا۔
تفصیلی رپورٹ کی تیاری | Metro Takeover
دریں اثنا پیر کی رات بھی اس سلسلے میں مشاورت کا عمل جاری رہا۔ اے ریونت ریڈی نے اشونی ویشنو اور مرکزی وزیر برائے کوئلہ و کان کنی جی کشن ریڈی سے ملاقات کی، جس کے بعد منگل کی صبح منوہر لال کھٹر کی رہائش گاہ پر ایک اور اہم نشست منعقد ہوئی۔
اس ملاقات میں تمام فریقین نے متفقہ طور پر ایک مشاورتی ادارے کے تقرر کی منظوری دی۔ چنانچہ ایس بی آئی کیپس میٹرو ریل فیز اول کی مکمل مالی اور انتظامی جانچ کرے گا تاکہ منصوبے کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
رپورٹ میں فیز اول کی مالیت، حصول سے متعلق مالی تقاضوں اور مختلف قرضہ جاتی امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میٹرو کے دوسرے مرحلے کے نیٹ ورک کی توسیع، منصوبے کی لاگت اور فنڈنگ کے ذرائع کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔
مرکز اور ریاستی حکام کی مشترکہ نگرانی | Metro Takeover
مزید برآں مرکز اور ریاستی حکومت نے اس مطالعے کی نگرانی کے لیے سینئر افسران نامزد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت مرکزی حکومت ایک سینئر افسر مقرر کرے گی جبکہ ریاستی حکومت نے محکمہ بلدی نظم و نسق و شہری ترقیات کے اسپیشل چیف سیکریٹری کو نامزد کر دیا ہے۔
لہٰذا دونوں افسران مشاورتی ادارے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے مطالعے کے تمام مراحل کی نگرانی کریں گے۔ ان کی ذمہ داریوں میں انتظامی کارروائیوں کو تیز کرنا اور مختلف سرکاری محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنانا بھی شامل ہوگا۔
اس کے بعد جب مشاورتی رپورٹ مکمل ہو جائے گی تو ریاستی اور مرکزی حکومتیں اس کا تفصیلی جائزہ لیں گی۔ چنانچہ رپورٹ کی سفارشات کی بنیاد پر میٹرو ریل فیز اول کے حصول اور حیدرآباد میٹرو کے دوسرے مرحلے کی توسیع سے متعلق آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔
