حیدرآباد: تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے کہا ہے کہ ویر بال دیوس صرف قربانی کی یاد نہیں بلکہ جرأت، دھرم اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت جیسی بھارتی اقدار کی تجدید کا دن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کی تاریخ میں کم عمری کے باوجود عظیم قربانیوں کی مثالیں آج بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
سکندرآباد کے گوردوارہ میں منعقدہ خصوصی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صاحبزادہ بابا زوراور سنگھ جی اور صاحبزادہ بابا فتح سنگھ جی کی شہادت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کے مطابق یہ قربانی بھارتی تاریخ کے سب سے متاثر کن واقعات میں شمار ہوتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ بہادری کے لیے عمر کوئی رکاوٹ نہیں۔
قومی اقدار کی تجدید | Veer Diwas
این رام چندر راؤ نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے 2014 سے سکھ برادری کے جذبات کا احترام کیا ہے۔ ان کے مطابق 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے مقدمات میں انصاف کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے، جس سے متاثرہ خاندانوں کو راحت ملی۔
انہوں نے سیوا بھوج یوجنا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت گوردواروں کے لنگر میں استعمال ہونے والی غذائی اشیا پر جی ایس ٹی سے چھوٹ دی گئی ہے۔ اس مد میں سالانہ تقریباً 325 کروڑ روپے کے ٹیکس واپس کیے جاتے ہیں، جس سے روزانہ قریب ایک کروڑ افراد کو کھانا فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
سکھ برادری کے لیے عملی اقدامات | Veer Diwas
انہوں نے کرتارپور کوریڈور کے افتتاح کو دہائیوں پرانے مطالبے کی تکمیل قرار دیا، جس کے ذریعے یاتریوں کو سال بھر کرتارپور صاحب تک رسائی حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق یہ اقدامات وزیر اعظم نریندر مودی کے تصور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں۔
این رام چندر راؤ نے بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر جگموہن سنگھ کی بھی تعریف کی، جنہوں نے سکھ برادری کے ساتھ روابط مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ویر صاحبزادوں کی وراثت کو اپنائیں، جو جرأت، خدمت اور قومی یکجہتی پر مبنی ہے۔
