کویتا کا ریونت ریڈی پر آبی حقوق سے سمجھوتے کا الزام | Godavari Water Rights
حیدرآباد:۔ تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) کی صدر کلواکنٹلا کویتا نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر آبی منصوبے کے معاملے میں متضاد موقف اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے پولاورم بناکاچرلہ منصوبے پر حکومت کی پالیسی کو غیر واضح قرار دیا۔ کویتا کے مطابق، حکومت دریاؤں کے پانی کے استعمال پر واضح حکمت عملی پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ بھی نہیں کیا جارہا۔
کویتا نے کہا کہ نیشنل واٹر ڈیولپمنٹ ایجنسی کے اجلاسوں میں حکومت کا موقف سامنے آگیا۔ ان اجلاسوں میں تلنگانہ کے عہدیداروں نے گوداوری اور کاویری دریاؤں کو جوڑنے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ ربط سمّکّا ساگر، جسے تپاکلا گوڑم بھی کہا جاتا ہے، سے قائم کرنے کی بات کہی گئی تھی۔
تاہم، کویتا نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی نے سدرن زونل کونسل کے اجلاس میں پولاورم بناکاچرلہ منصوبے سے اتفاق کیا تھا۔ اس اجلاس کی صدارت مرکزی وزیر داخلہ نے کی تھی۔ کویتا کے مطابق، دونوں مواقع پر حکومت کے موقف میں واضح تضاد ہے۔
تلنگانہ کے 250 ٹی ایم سی پانی پر خدشات | Godavari Water Rights
کویتا نے یاد دلایا کہ تلنگانہ جاگروتی نے 2024 میں پولاورم بناکاچرلہ منصوبے کی مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق، تنظیم نے اس منصوبے سے تلنگانہ کے آبی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اس نے آندھرا پردیش کے مجوزہ منصوبے کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
کویتا نے ریونت ریڈی پر الزام لگایا کہ وہ تلنگانہ کے جائز حصے کا 250 ٹی ایم سی گوداوری پانی آندھرا پردیش کے حوالے کررہے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو کو ’گرو دکشنا‘ دینے سے تعبیر کیا۔
انہوں نے مرکزی وزیر جل شکتی کی جانب سے طلب کردہ اجلاس پر بھی تنقید کی۔ اس اجلاس میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹروں نے شرکت کی تھی۔ کویتا کا الزام ہے کہ ریونت ریڈی نے وہاں منصوبے سے اتفاق کیا۔ تاہم، بعد میں انہوں نے میڈیا کے سامنے غلط بیانات دیے۔
کویتا کے مطابق، آندھرا پردیش حکومت دریاؤں کو جوڑنے کے منصوبے کے تحت اس تجویز کو مرکز سے منظور کرانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کوشش تلنگانہ کے چیف منسٹر کی رضامندی سے جاری ہے۔
مرکز سے مشاورت ختم کرنے اور مداخلت کی اپیل | Godavari Water Rights
کویتا نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس منصوبے کے تلنگانہ کے آبی مفادات پر ممکنہ اثرات کو تسلیم کرے۔ انہوں نے مرکز کی جانب سے منعقد ہونے والی تمام مشاورتوں سے فوری طور پر دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ریونت ریڈی سے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھنے کی بھی اپیل کی۔ کویتا کے مطابق، اس خط میں مرکز سے منصوبے کو روکنے کے لیے مداخلت کی درخواست کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ تلنگانہ کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کو واضح اور مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا۔
