منی کونڈہ میں واٹر ٹینکر مالکان کا احتجاج | Manikonda Tanker Strike
حیدرآباد:۔ منی کونڈہ میں واٹر ٹینکر مالکان کی ہڑتال سے بدھ کے روز نجی پانی کی سربراہی متاثر ہوگئی۔ سیکڑوں ٹینکر مالکان نے یوگا سرکل کے قریب گاڑیاں کھڑی کرکے احتجاج کیا۔ انہوں نے ہائیڈرا اور ریونیو حکام کی جانب سے نجی بورویل ہٹانے کے اقدامات کی مخالفت کی۔ مالکان کے مطابق، اس کارروائی سے ان کا پانی سربراہ کرنے کا کاروبار رک گیا ہے۔
احتجاجیوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے عوامی اور تجارتی ضروریات کو نظر انداز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام ٹینکر آپریشن بھی بند کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے عہدیداروں پر گاڑیوں میں مداخلت سے روکنے کے لیے انتباہ دینے کا الزام بھی لگایا۔ مظاہرین نے ہائیڈرا کے خلاف نعرے بلند کیے۔
ٹینکر مالکان کے مطابق، ہوٹلوں، خانگی ہاسٹلوں اور اپارٹمنٹس کے مکینوں کو پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نجی ٹینکر خدمات بند ہوگئیں تو حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ پوری طلب کیسے پوری کرے گا۔
ہاسٹلوں کی بندش اور طلبہ کی واپسی کے خدشات | Manikonda Tanker Strike
احتجاجیوں نے کہا کہ صرف ایک دن پانی کی سربراہی متاثر ہونے سے صارفین کو شدید مشکلات پیش آئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پانی نہ ملنے کے باعث بعض خانگی ہاسٹل بند ہورہے ہیں۔ مزید برآں، ہاسٹلوں کی جانب سے تعطیلات کے اعلان کے بعد طلبہ کو گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔
ٹینکر مالکان نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ انہوں نے نجی بورویل ہٹانے کی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا انتباہ ہے کہ نجی ٹینکر خدمات مکمل طور پر بند ہوئیں تو شہریوں کو پانی کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مالکان نے پانی مہنگے داموں فروخت کرنے کے الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کو مناسب قیمت پر پانی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کام کو عوامی خدمت قرار دیا۔ ان کے مطابق، نجی ٹینکر خدمات بند ہونے سے اس کاروبار پر انحصار کرنے والے سیکڑوں خاندان مالی مشکلات میں گھر جائیں گے۔
ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے واٹر بورڈ کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے لیے اپارٹمنٹس، ہاسٹلوں اور دیگر اداروں کو بلا تعطل پانی فراہم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق، پابندیوں سے صارفین اور ٹینکر مالکان دونوں متاثر ہورہے ہیں۔
احتجاج میں پرائیویٹ واٹر ٹینکر ایسوسی ایشن کے نمائندے راج کمار، رچاملا اکشے، بٹّا جنگیا، بٹّا راجو، بالاراجو اور مورنگا دیاکر نے شرکت کی۔
