شیریشا واقعہ کے بعد خواتین کے تحفظ پر سوالات | Telangana Women Safety
حیدرآباد:۔ شیریشا واقعہ نے تلنگانہ میں خواتین کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سکیورٹی نظام کا جامع جائزہ لینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سخت قوانین کافی نہیں ہوتے۔ مزید برآں مؤثر عمل درآمد اور بروقت انصاف بھی ضروری ہے۔
ورک پلیس سکیورٹی پر توجہ | Telangana Women Safety
پولیس تحقیقات کے مطابق ملزم کچھ عرصے سے شیریشا کی نقل و حرکت پر نظر رکھ رہا تھا۔ بعد ازاں وہ مبینہ طور پر کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوا۔
اس وقت شیریشا سو رہی تھیں۔ اسی دوران ملزم نے مبینہ طور پر جرم کا ارتکاب کیا۔
پولیس نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر فوری کارروائی کی۔ تاہم اس واقعے نے خواتین کے تحفظ سے متعلق کئی سوالات چھوڑ دیے۔
شیریشا اپنے گھر سے دور ملازمت کر رہی تھیں۔ لہٰذا یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کام کرنے والی خواتین کو بنیادی تحفظ کیوں میسر نہیں۔
2012 میں دہلی کے نربھیا واقعے نے ملک کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ اس کے علاوہ اس واقعے کے بعد فوجداری قوانین میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔
بعد ازاں شی ٹیمس، فاسٹ ٹریک عدالتیں، سی سی ٹی وی نظام اور ہنگامی ہیلپ لائنز متعارف کرائی گئیں۔ تاہم خواتین کے خلاف جرائم مکمل طور پر نہیں رک سکے۔
2019 کے دشا کیس اور 2024 کے کولکاتا آر جی کار واقعے کے بعد اب شیریشا واقعہ بھی عوامی تشویش کا سبب بنا ہے۔ یوں خواتین کے تحفظ پر بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔
این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4,48,211 مقدمات درج ہوئے۔ 2022 میں یہ تعداد 4,45,256 رہی جبکہ 2021 میں 4,28,278 مقدمات ریکارڈ ہوئے۔
قومی سطح پر جرائم کی شرح ہر ایک لاکھ خواتین پر 66.2 رہی۔ دوسری جانب تلنگانہ میں یہ شرح 124.9 ریکارڈ کی گئی۔
یہ اعداد و شمار صرف درج شدہ مقدمات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی دباؤ اور خوف کی وجہ سے کئی واقعات رپورٹ بھی نہیں ہو پاتے۔
احتیاط اور فوری انصاف کی ضرورت | Telangana Women Safety
تلنگانہ میں شی ٹیمس، بھروسہ مراکز اور ٹی-سیف جیسے نظام پہلے سے موجود ہیں۔ تاہم شیریشا واقعہ نے نجی اداروں کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ورک پلیس، ہاسٹلز اور پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں میں مضبوط دروازے اور محفوظ کھڑکیاں ہونی چاہئیں۔ مزید برآں مؤثر نگرانی اور فعال سی سی ٹی وی بھی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خواتین کی رہائش گاہوں کے لیے لازمی جینڈر سیفٹی آڈٹ کی سفارش کی ہے۔ اسی دوران پوسہ ایکٹ پر عمل درآمد کا بھی باقاعدہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
پولیس کو حساس علاقوں میں گشت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اسٹاکنگ سے متعلق شکایات پر فوری کارروائی ہونی چاہیے۔
اس کیس میں ملزم کے خلاف تیز رفتار مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ سخت سزا کو آئندہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لڑکوں کو بچپن سے دوسروں کی آزادی اور احترام کا درس دینا چاہیے۔ یوں معاشرے میں خواتین کے وقار اور تحفظ کا شعور مضبوط ہو سکتا ہے۔
شیریشا، نربھیا اور دشا اپنے خاندانوں کے پاس واپس نہیں آ سکتیں۔ تاہم ان واقعات سے سبق لینا ہر ادارے اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
خواتین کا تحفظ کسی ادارے کی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ چنانچہ حقیقی انصاف اسی وقت ممکن ہوگا جب جرم کے بعد کارروائی کے ساتھ جرم سے پہلے مؤثر روک تھام بھی یقینی بنائی جائے۔
