کے ٹی آر کا کانگریس کے وعدوں پر ریونت ریڈی کو چیلنج | Congress Promises
حیدرآباد:۔ بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی آر نے کانگریس حکومت کے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو کھلا چیلنج بھی دیا۔
کے ٹی آر نے کہا کہ اگر حکومت اپنے تمام 420 وعدے پورے کرے تو بی آر ایس کے تمام ایم ایل ایز اور ایم ایل سیز رضاکارانہ طور پر گرفتاری دیں گے۔
وعدوں اور گرفتاریوں پر تنقید | Congress Promises
کے ٹی آر نے یہ بیان بی آر ایس کے ایم ایل سی ٹاٹا مدھو اور نوین کمار ریڈی کی گرفتاریوں پر ردعمل دیتے ہوئے دیا۔ مزید برآں انہوں نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی 6 ضمانتوں اور 420 وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ ان کے مطابق حکومت نے 1,000 دن مکمل کر لیے، لیکن عوامی وعدے پورے نہیں کیے۔
کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ اس عرصے میں حکومت کی بڑی کامیابی صرف گرفتاریاں اور غیر قانونی حراستیں رہی ہیں۔ لہٰذا انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے تمام عوامی نمائندے رضاکارانہ طور پر گرفتاری دینے کے لیے تیار ہیں۔ اسی دوران انہوں نے ریونت ریڈی سے وعدوں پر عمل کرکے اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کا مطالبہ کیا۔
عدالت اور خواتین کے معاملے پر سوالات | Congress Promises
کے ٹی آر نے بی آر ایس کی ایم ایل ایز سبیتا اور سنیتا کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات جاری کی جائیں۔
انہوں نے حکومت کے خواتین کے احترام کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ذمہ دار افراد کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی وضاحت مانگی۔
کے ٹی آر نے گزشتہ روز ہائی کورٹ کے ریمارکس کا بھی حوالہ دیا۔ چنانچہ انہوں نے سوال کیا کہ عدالتی ہدایات کے باوجود ٹاٹا مدھو اور نوین کمار ریڈی کو کیوں گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گرفتاری سے پہلے جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عدالت اور قانون کے احترام کے فقدان کو ظاہر کرتے ہیں۔
کے ٹی آر نے کانگریس حکومت پر توجہ ہٹانے کی سیاست کرنے کا بھی الزام لگایا۔ یوں انہوں نے کہا کہ عوام حکومت کی کارکردگی کا خود جائزہ لے رہے ہیں۔
