ہائی کورٹ میں آئی اے ایس افسران پر سخت ریمارکس | High Court Contempt
حیدرآباد:۔ ہائی کورٹ نے توہین عدالت کے ایک مقدمے میں دو سینئر آئی اے ایس افسران کی غیر حاضری پر سخت ناراضی ظاہر کی۔ عدالت نے ان کے رویے پر کئی اہم سوالات بھی اٹھائے۔
فنانس محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری سندیپ کمار سلطانیہ اور روڈس اینڈ بلڈنگس محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری وکاس راج ضمانتی وارنٹ جاری ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
عدالت کے سخت سوالات | High Court Contempt
عدالت نے پوچھا کہ فارم-1 نوٹس ملنے کے بعد افسران بیرون ملک سفر کی منصوبہ بندی کیسے کر سکتے ہیں۔ مزید برآں عدالت نے سوال کیا کہ اگر ہوائی اڈے پر گرفتاری ہو جائے تو وہ کیا کریں گے۔
ججوں نے استفسار کیا کہ کیا سینئر سرکاری افسران توہین عدالت کے ضوابط سے واقف ہیں۔ اسی دوران عدالت نے سرکاری وکیل کی وضاحت پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا۔
سرکاری وکیل نے بتایا کہ اسمبلی اجلاس کی وجہ سے افسران حاضر نہیں ہو سکے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ وہ آن لائن بھی کارروائی میں شریک ہو سکتے تھے۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں آسانی سے قبول نہیں کی جائیں گی۔ لہٰذا افسران کو عدالتی احکامات پر سنجیدگی سے عمل کرنا ہوگا۔
معذرت ناموں کے بعد مقدمہ بند | High Court Contempt
عدالت کے سخت ریمارکس کے بعد دونوں افسران کی جانب سے معذرت نامے جمع کرائے گئے۔ ان حلف ناموں میں غیر حاضری پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
بعد ازاں ہائی کورٹ نے ان معذرت ناموں کا جائزہ لیا۔ چنانچہ عدالت نے توہین عدالت کی درخواستیں نمٹا دیں۔
مزید برآں عدالت نے کہا کہ سینئر افسران کو توہین عدالت کی کارروائی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یوں عدالت نے واضح کیا کہ مشکل حالات میں آن لائن حاضری بھی ایک مؤثر متبادل ہو سکتی ہے۔
