کوانٹم اسکیپ بیٹری ٹیکنالوجی | Quantum Battery Technology
حیدرآباد:۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سان ہوزے میں کوانٹم اسکیپ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ انہوں نے کمپنی کی اعلیٰ قیادت سے بیٹری ٹیکنالوجی پر بات چیت کی۔ کوانٹم اسکیپ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سیوا سیوارام نے ان کا استقبال کیا۔ کمپنی کی قیادت کے دیگر ارکان بھی ملاقات میں موجود تھے۔
ڈاکٹر سیوا سیوارام نے سالڈ اسٹیٹ لیتھیم میٹل بیٹریوں پر کمپنی کے کام کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے نئی ٹیکنالوجی کی موجودہ پیش رفت سے ڈپٹی چیف منسٹر کو آگاہ کیا۔ کمپنی ایسی بیٹریاں تیار کر رہی ہے جن میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہوسکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے تیز چارجنگ اور بہتر حفاظتی خصوصیات بھی متوقع ہیں۔
کمپنی نے روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں سے نئی ٹیکنالوجی کا فرق بھی واضح کیا۔ ڈاکٹر سیوارام نے تحقیق سے تجارتی پیداوار تک پہنچنے کے چیلنجز بیان کیے۔ جدید بیٹری ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر تیار کرنا پیچیدہ عمل ہے۔ اس کے لیے تحقیق، انجینئرنگ اور صنعتی صلاحیت کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے۔
سالڈ اسٹیٹ بیٹریوں سے نئی صنعتی امکانات | Quantum Battery Technology
ملاقات میں عالمی بیٹری سپلائی چین پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں جانب سے اہم معدنیات اور جدید مواد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیٹری کے مختلف پرزوں اور سیل مینوفیکچرنگ کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ الیکٹرک گاڑیوں میں نئی بیٹری ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بات ہوئی۔
فریقین نے جائزہ لیا کہ ابھرتی ہوئی بیٹری ٹیکنالوجی موجودہ سپلائی چین کو کیسے بدل سکتی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی سے مختلف خطوں میں مینوفیکچرنگ کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ اس سے سپلائی چین میں زیادہ تنوع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔ مزید برآں، نئی صنعتی شراکت داری کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
ڈپٹی چیف منسٹر اور کوانٹم اسکیپ کی قیادت نے بھارت کے بڑھتے برقی نقل و حرکت کے شعبے پر بھی گفتگو کی۔ دونوں جانب نے جدید مینوفیکچرنگ کے بڑھتے ہوئے امکانات کا جائزہ لیا۔ انجینئرنگ اور تحقیق کے شعبے میں تعاون کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ بات چیت میں عالمی کمپنیوں اور بھارتی صنعت کے درمیان روابط پر زور دیا گیا۔
بھارت میں جدید مینوفیکچرنگ کا ماحولیاتی نظام تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ملک میں انجینئرنگ کے شعبے میں تربیت یافتہ افرادی قوت بھی موجود ہے۔ صاف ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بھارت اپنی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ان صلاحیتوں کو عالمی کمپنیوں کے لیے اہم قرار دیا۔
بھارت میں مقامی تعاون کے امکانات پر غور | Quantum Battery Technology
ملاقات کے دوران کوانٹم اسکیپ کے ساتھ مختلف شعبوں میں ممکنہ تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ ان شعبوں میں جدید مواد اور بیٹری کے پرزے شامل ہیں۔ انجینئرنگ اور تحقیق و ترقی بھی ممکنہ تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔ سپلائی چین سے متعلق شراکت داری پر بھی بات چیت ہوئی۔
فریقین نے بھارت میں کوانٹم اسکیپ کی بیٹری ٹیکنالوجی کو وسعت دینے کے طویل مدتی امکانات بھی دیکھے۔ مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی موجودگی سے صنعتی تعاون بڑھ سکتا ہے۔ اس سے بھارت کے جدید مینوفیکچرنگ شعبے کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔ تاہم ایسے منصوبوں کے لیے تجارتی اور تکنیکی امکانات کا مزید جائزہ ضروری ہوگا۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے بھارت کی جدید مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے انجینئرنگ ٹیلنٹ اور صاف ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ملک کی پیش رفت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کوانٹم اسکیپ کو بھارتی صنعتی نظام کے ساتھ گہری شراکت داری پر غور کرنے کی دعوت دی۔ اس دعوت کا مقصد عالمی ٹیکنالوجی اور بھارتی صنعت کے درمیان روابط بڑھانا ہے۔
یہ دورہ امریکہ میں ڈپٹی چیف منسٹر کی وسیع تر ٹیکنالوجی ملاقاتوں کا حصہ تھا۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے عالمی اختراعی کمپنیوں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جدید مینوفیکچرنگ اور صاف ٹیکنالوجی میں بھارت کے امکانات بھی ان ملاقاتوں کا اہم حصہ ہیں۔ اسی دوران عالمی کمپنیوں کو بھارتی صنعتی ماحول سے جوڑنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
عالمی بیٹری صنعت میں شراکت داری کی راہیں | Quantum Battery Technology
کوانٹم اسکیپ کے ساتھ بات چیت نے جدید بیٹری ٹیکنالوجی کے اہم پہلوؤں کو سامنے رکھا۔ زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔ تیز چارجنگ بھی برقی نقل و حرکت کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ بہتر حفاظتی خصوصیات صارفین کے اعتماد کو مزید مضبوط کرسکتی ہیں۔
تاہم تحقیق سے تجارتی پیداوار تک منتقلی اب بھی بڑا چیلنج ہے۔ بڑے پیمانے پر بیٹری سیل تیار کرنے کے لیے جدید صنعتی سہولتیں درکار ہیں۔ سپلائی چین میں اہم معدنیات اور مواد کی دستیابی بھی ضروری ہے۔ چنانچہ عالمی شراکت داری اس ٹیکنالوجی کی تجارتی توسیع میں اہم ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب بھارت جدید مینوفیکچرنگ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔ انجینئرنگ، تحقیق اور صاف ٹیکنالوجی کے شعبے اس پیش رفت میں اہم ہیں۔ کوانٹم اسکیپ جیسی عالمی کمپنیوں کے ساتھ تعاون سے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے بھارتی صنعت کو جدید بیٹری سپلائی چین میں جگہ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یوں سان ہوزے میں ہونے والی ملاقات نے بیٹری ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔ دونوں جانب نے تحقیق، مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بات کی۔ مستقبل میں مزید تعاون کے امکانات کا انحصار تکنیکی اور تجارتی جائزوں پر ہوگا۔ اس کے باوجود ملاقات نے بھارت اور عالمی صاف ٹیکنالوجی صنعت کے درمیان روابط کے نئے امکانات سامنے رکھے۔
