پروالیکا کی موت پر وزیر پونم پربھاکر کا اظہارِ افسوس | Pravallika Death
حیدرآباد:۔ منوگوڑو کی آر ٹی سی کنڈکٹر پروالیکا کی موت پر وزیر پونم پربھاکر نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ 24 سالہ پروالیکا منگل کو حیدرآباد کے ایک خانگی اسپتال میں دوران علاج انتقال کرگئیں۔ ایک مسافر کے ساتھ کرایے کے بقایا پیسوں پر بحث کے دوران انہیں چلتی بس سے دھکا دینے کا الزام ہے۔ اس واقعے میں وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں۔
وزیر پونم پربھاکر نے کہا کہ پروالیکا کی موت نے انہیں صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی حکومت اور آر ٹی سی کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں واقعے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے خانگی اسپتال میں ڈاکٹروں نے پروالیکا کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کی تھیں۔ انہیں امید تھی کہ وہ صحت یاب ہوکر دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آئیں گی۔ تاہم، ان کی موت انتہائی تکلیف دہ ہے۔
پونم پربھاکر نے مزید کہا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف حکام سخت کارروائی کررہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاثرہ خاندان کو حکومت اور آر ٹی سی کی مدد حاصل رہے گی۔
حادثے کی تفصیلات اور آر ٹی سی یونین کا ردعمل | Pravallika Death
یہ واقعہ 25 اکتوبر کو بھدرا دری کوٹھا گوڑم ضلع کے اشواپورم منڈل میں متی گوڑم کے قریب پیش آیا تھا۔ بقایا پیسوں کے معاملے پر مسافر اور پروالیکا کے درمیان بحث ہوئی۔ اسی دوران، مسافر نے مبینہ طور پر انہیں چلتی بس سے دھکا دے دیا۔
پروالیکا سڑک پر گرگئیں اور بس کے پہیے ان کی دونوں ٹانگوں پر چڑھ گئے۔ اس حادثے میں انہیں شدید چوٹیں آئیں۔ بعد ازاں، بہتر علاج کے لیے انہیں حیدرآباد کے ایک خانگی اسپتال منتقل کیا گیا۔
وزیر پونم پربھاکر اور آر ٹی سی کے سینئر عہدیداروں نے اسپتال پہنچ کر ان کی عیادت کی تھی۔ انہوں نے ڈاکٹروں سے بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کی درخواست کی۔ پروالیکا کی حالت سے صحت یابی کی امید پیدا ہوئی تھی۔ تاہم، ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ منگل کو دوران علاج ان کا انتقال ہوگیا۔
ان کی موت سے تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ آر ٹی سی ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بدھ کو منوگوڑو ڈپو بند رکھنے کا اعلان کیا۔ کمیٹی نے پروالیکا کو بس سے دھکا دینے کی ملزم خاتون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
