ریونت ریڈی حکومت کے 1000 دن | People's Governance
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت نے یکم ستمبر کو وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت میں 1000 دن مکمل ہونے کا اعلان کیا۔
حکومت نے اس سنگ میل کو “1000 Days of People’s Governance” قرار دیا۔ اس کے ساتھ “From Welfare to a Pioneering World-Class Telangana” کو ترقی کا مرکزی وژن بتایا گیا۔
حکومت کے مطابق گزشتہ 1000 دنوں میں انتظامیہ میں وسیع اصلاحات کی گئیں۔ مزید برآں فلاحی منصوبوں، سماجی انصاف اور ترقیاتی کاموں پر توجہ دی گئی۔
ریاستی حکومت نے کہا کہ کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور سرکاری ملازمین نے ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دوران سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بھی رفتار دی گئی۔
حکومت کے مطابق 2025-26 میں تلنگانہ کی فی کس آمدنی ₹4,18,931 تک پہنچ گئی۔ یہ قومی اوسط سے تقریباً 91 فیصد زیادہ رہی۔
زراعت کو اولین ترجیح | People’s Governance
حکومت نے کسانوں کے ₹2 لاکھ تک کے زرعی قرضے معاف کیے۔ اس اقدام سے 25 لاکھ سے زیادہ کسان خاندانوں کو فائدہ پہنچا۔
ریتو بھروسہ اسکیم کے تحت ₹36,000 کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری امداد فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ صرف 9 دنوں میں تقریباً ₹9,000 کروڑ جاری کیے گئے۔
باریک قسم کے دھان پر فی کوئنٹل ₹500 بونس بھی دیا گیا۔ مزید برآں مفت زرعی بجلی اور کسان بیمہ جاری رکھا گیا۔
حکومت کے مطابق 32 ماہ میں زراعت اور کسانوں کی بہبود پر تقریباً ₹1.68 لاکھ کروڑ خرچ کیے گئے۔ لہٰذا زرعی شعبہ حکومتی ترجیحات میں سرفہرست رہا۔
ریاست نے دعویٰ کیا کہ دھان کی کاشت اور پیداوار میں پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ گزشتہ یاسنگی سیزن میں 81.12 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی خریداری ہوئی۔
اسی دوران حکومت نے کرشنا اور گوداوری کے پانی میں تلنگانہ کے حق کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ حکومت نے یوریا کی قلت کے دوران کسانوں کے تعاون کو بھی سراہا۔
خواتین کی فلاح پر خصوصی توجہ | People’s Governance
مہالکشمی اسکیم کے تحت خواتین نے آر ٹی سی بسوں میں 335 کروڑ سے زیادہ مفت سفر کیے۔ حکومت کے مطابق اس سے خواتین کے تقریباً ₹11,000 کروڑ کے سفری اخراجات بچے۔
گروہا جیوتی اسکیم کے ذریعے 53 لاکھ سے زیادہ خاندانوں کو 200 یونٹ تک مفت بجلی ملی۔ اس کے علاوہ 43 لاکھ خاندانوں کو ₹500 میں ایل پی جی سلنڈر فراہم کیے گئے۔
خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو ₹60,487 کروڑ کے بینک روابط فراہم کیے گئے۔ مزید برآں انہیں ₹1,900 کروڑ کی سودی سبسڈی بھی دی گئی۔
خواتین کے گروپس کو اسکول یونیفارم اور ساڑی سلائی کے مواقع دیے گئے۔ یوں انہیں پیٹرول بنک اور آر ٹی سی بس آپریشن میں بھی شامل کیا گیا۔
حکومت نے ایک کروڑ خواتین کو کروڑ پتی بنانے کا ہدف بھی مقرر کیا۔ اس مقصد کو ریاستی معیشت میں خواتین کی شراکت بڑھانے سے جوڑا گیا۔
رہائش، راشن اور سماجی تحفظ | People’s Governance
حکومت نے اس عرصے میں 15 لاکھ سے زیادہ نئے راشن کارڈ جاری کیے۔ اس وقت تقریباً 3.38 کروڑ افراد پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم سے مستفید ہو رہے ہیں۔
مزید برآں راشن کارڈ رکھنے والوں کے لیے عمدہ چاول کی تقسیم شروع کی گئی۔ اس کے علاوہ اسمارٹ راشن کارڈ بھی متعارف کرائے گئے۔
سماجی تحفظ پنشن سے 43 لاکھ سے زیادہ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی دوران مزید 2.25 لاکھ افراد کے لیے نئی پنشن منظور کی گئی۔
اندرامّا ہاؤسنگ اسکیم کے پہلے مرحلے میں 4.50 لاکھ مکانات منظور کیے گئے۔ ہر مستحق خاندان کو مکان کی تعمیر کے لیے ₹5 لاکھ کی مالی مدد دی جا رہی ہے۔
حکومت نے چنچو قبیلے اور انتہائی پسماندہ خاندانوں کو خصوصی ترجیح دی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں ایک لاکھ اندرامّا مکانات کی منصوبہ بندی کی گئی۔
سماجی انصاف اور نوجوانوں کی ترقی | People’s Governance
ریاستی حکومت نے سماجی، معاشی، تعلیمی اور ذات پر مبنی ریاست گیر سروے کرایا۔ اس کے نتائج کو پالیسی سازی میں استعمال کرنے کا اعلان کیا گیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایس سی ذیلی درجہ بندی نافذ کی گئی۔ یوں 59 درج فہرست ذاتوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔
قانون ساز اسمبلی نے بی سی طبقات کے لیے تعلیم، ملازمت اور سیاست میں 42 فیصد ریزرویشن سے متعلق بل منظور کیے۔ مزید برآں 12 سال سے زیر التوا کم از کم اجرت میں بھی نظرثانی کی گئی۔
گیگ ورکرز کے لیے نئی قانون سازی بھی متعارف کرائی گئی۔ اس قانون کے تحت قانونی شناخت، ویلفیئر بورڈ اور سماجی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
تعلیم کے شعبے میں 105 ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ رہائشی اسکول منظور کیے گئے۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں پری پرائمری کلاسیں شروع کی گئیں۔
22 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو ناشتہ، دودھ اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے ₹720 کروڑ مختص کیے۔
میگا ڈی ایس سی کے ذریعے 10,006 اساتذہ کی تقرری کی گئی۔ اسی دوران تقریباً 11 لاکھ طلبہ کو اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ دی گئی۔
حکومت کے مطابق 1000 دنوں میں 72,000 سے زیادہ سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ مزید برآں گروپ-I، ڈی ایس سی، ٹی جی پی ایس سی اور پولیس بھرتیوں کے نوٹیفکیشن بھی جاری کیے گئے۔
صحت، سرمایہ کاری اور مستقبل کا وژن | People’s Governance
راجیو آروگیہ شری اسکیم کی حد ₹5 لاکھ سے بڑھا کر ₹10 لاکھ کر دی گئی۔ مزید برآں گوشہ محل میں 2,000 بستروں والے عثمانیہ اسپتال کی تعمیر شروع ہوئی۔
صنعت نگر، الوال اور ایل بی نگر میں تین ٹمز سپر اسپیشلٹی اسپتال قائم کیے گئے۔ اسی دوران 9 نئے سرکاری میڈیکل کالج بھی قائم ہوئے۔
حکومت نے ڈیجیٹل گورننس کو بھی وسعت دی۔ تمام 36 سیکریٹریٹ محکموں میں ای-آفس نظام نافذ کیا گیا۔
581 سے زیادہ سرکاری خدمات واٹس ایپ کے ذریعے دستیاب کرائی گئیں۔ اس کے علاوہ بھو بھارتی، بھو دھار اور اے آئی پر مبنی بھو مترا خدمات بھی شروع کی گئیں۔
حیدرآباد ریجنل رنگ روڈ، میٹرو فیز-II اور موسیٰ ندی کی بحالی پر بھی کام جاری رہا۔ مزید برآں ممنور ہوائی اڈہ اور عادل آباد ایئر اسٹرپ کی ترقی کے منصوبے آگے بڑھے۔
ٹی جی-آئی پاس کے ذریعے ₹1.29 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی۔ تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ-2025 میں ₹5.75 لاکھ کروڑ کے سرمایہ کاری معاہدے طے پائے۔
حکومت کے مطابق 2025-26 میں آئی ٹی برآمدات ₹3.97 لاکھ کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ براہ راست آئی ٹی روزگار 12.14 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
حیدرآباد میں 355 سے زیادہ گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ صرف 2026 میں مزید 40 مراکز نے حیدرآباد کا انتخاب کیا۔
ایمیزون نے تلنگانہ میں مزید 7 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ حکومت نے ریاستی سطح پر ٹی جی-ڈیکس اے آئی ڈیٹا ایکسچینج بھی قائم کیا۔
حکومت نے Telangana Rising 2047 کو طویل مدتی ترقیاتی وژن قرار دیا۔ اس منصوبے کا ہدف 2034 تک ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت قائم کرنا ہے۔
