نلگنڈہ میں ڈائیلاسز سہولیات کی کمی | Dialysis Shortage
حیدرآباد:۔ نلگنڈہ ضلع میں ڈائیلاسز مریض بستروں اور مشینوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ سرکاری مراکز میں مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ضلع میں 11 سرکاری ڈائیلاسز مراکز کام کر رہے ہیں۔ تاہم دستیاب سہولیات مریضوں کی ضرورت پوری نہیں کر پا رہیں۔
مریضوں کو طویل انتظار کا سامنا | Dialysis Shortage
سرکاری مراکز میں اس وقت 726 مریضوں کو مفت ڈائیلاسز فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید برآں یہ خدمات روزانہ چار شفٹوں میں جاری ہیں۔
مریضوں کو ہفتے میں 2 یا 3 مرتبہ ڈائیلاسز کرانا پڑتا ہے۔ لہٰذا انہیں کئی گھنٹے بستر خالی ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
ہر مریض کے ڈائیلاسز میں تقریباً 4 گھنٹے لگتے ہیں۔ اسی دوران اگلی شفٹ کے مریض انتظار گاہ میں بیٹھے رہتے ہیں۔
دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں سفری اخراجات بھی برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔
کئی مریض مجبوری میں نجی اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ تاہم ہر سیشن پر ہزاروں روپے خرچ ہونے سے غریب اور متوسط خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
مریضوں کا کہنا ہے کہ نجی اسپتال کمروں، ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ کے الگ اخراجات بھی وصول کرتے ہیں۔ اگرچہ حکام نے آروگیہ شری کے تحت سہولت کی بات کہی، لیکن مریضوں کے مطابق زمینی صورتحال مختلف ہے۔
بستروں، ادویات اور ماہر ڈاکٹر کی کمی | Dialysis Shortage
نلگنڈہ سرکاری اسپتال میں 15 بستروں پر 135 مریض زیر علاج ہیں۔ دیورکنڈہ میں 10 بستروں پر 50 مریض خدمات حاصل کر رہے ہیں۔
میریال گوڑہ میں 10 بستروں پر 92 مریض رجسٹرڈ ہیں۔ اسی دوران ناگارجن ساگر میں 5 بستروں پر 40 مریض علاج کرا رہے ہیں۔
مری گوڑہ میں 5 بستروں پر 30 مریض موجود ہیں۔ سوریہ پیٹ میں 7 بستروں پر 60 مریض خدمات حاصل کر رہے ہیں۔
ہزور نگر میں 9 بستروں پر 80 مریض رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے علاوہ کوڈاڈ میں 5 بستروں پر 52 مریض زیر علاج ہیں۔
چوٹ اُپل میں 5 بستروں پر 50 مریض موجود ہیں۔ بھونگیری میں 8 بستروں پر 90 مریض جبکہ رامنا پیٹ میں 5 بستروں پر 47 مریض علاج کرا رہے ہیں۔
کئی مراکز چار شفٹوں میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم یہ انتظام بھی مریضوں کی ضرورت پوری نہیں کر پا رہا۔
مریض خون اور آئرن انجیکشن کی کمی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ٹیکنیشنز کے مطابق پہلے ہر 2 ڈائیلاسز کے بعد ایک خون کا انجیکشن دیا جاتا تھا۔
اب موجودہ سپلائی کے باعث تقریباً ہر 3 سیشن کے بعد ایک انجیکشن دیا جا رہا ہے۔ مزید برآں آئرن انجیکشن کی فراہمی بھی محدود بتائی جا رہی ہے۔
ماہر گردہ امراض کی عدم دستیابی نے بھی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ چنانچہ ہنگامی صورتحال میں ٹیکنیشنز کو فوری طبی فیصلے کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
ایک مریض نے بتایا کہ وہ گزشتہ 2 برس سے گردوں کے مرض میں مبتلا ہے۔ اسے ہر ہفتے 2 مرتبہ ڈائیلاسز کرانا پڑتا ہے۔
مریض نے کہا کہ سرکاری اسپتال میں طویل انتظار بہت مشکل بن چکا ہے۔ لہٰذا اس نے حکومت سے مزید بستروں، مشینوں اور ماہر ڈاکٹروں کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا۔
