حیدرآباد سے 100 ٹن مرغی کا فضلہ ضبط | Chicken Waste
حیدرآباد:۔ سائبرآباد پولیس اور محکمہ ویٹرنری کے حکام نے تقریباً 100 ٹن مرغی کا فضلہ ضبط کر لیا۔ مزید برآں، حکام کے مطابق یہ فضلہ آندھرا پردیش کے مچھلی فارموں تک پہنچایا جا رہا تھا۔ اس کارروائی کے بعد بین الریاستی غیر قانونی سرگرمیوں پر سوالات اٹھنے لگے۔
حکام نے مختلف گاڑیوں کی جانچ کی۔ اسی دوران، کئی ٹرکوں سے مرغی کا فضلہ برآمد ہوا۔ اس کے علاوہ، کارروائی نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان مبینہ غیر قانونی سپلائی کا بھی انکشاف کیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ فضلہ حیدرآباد کی مختلف چکن دکانوں اور دیگر مراکز سے جمع کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں، اسے رات کے وقت ٹرکوں میں بھر کر آندھرا پردیش بھیجا جاتا تھا۔ وہاں یہ مبینہ طور پر مچھلی فارموں کے مالکان کو فروخت کیا جاتا تھا۔
مختلف علاقوں میں چھاپے | Chicken Waste
پولیس اور ویٹرنری حکام نے شہر کے کئی علاقوں میں مشترکہ کارروائی کی۔ مزید برآں، عطاپور، میاں پور، امین پور، کوکٹ پلی، جیڈی میٹلہ اور چنتل میں گاڑیوں کی تلاشی لی گئی۔
حکام کے مطابق مختلف چکن دکانوں سے فضلہ اکٹھا کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد اسے ٹرکوں میں منتقل کیا جاتا تھا۔ یوں، شہر سے باہر بڑی مقدار میں یہ مواد روانہ کیا جاتا تھا۔
تفتیشی حکام کا شبہ ہے کہ بعض مچھلی فارم مالکان کم لاگت کے باعث یہ فضلہ خریدتے تھے۔ لہٰذا، سستے چارے کی طلب نے اس مبینہ کاروبار کو فروغ دیا۔ اسی دوران، متعلقہ افراد مبینہ طور پر اس تجارت سے بھاری منافع حاصل کر رہے تھے۔
خوراک کے تحفظ پر خدشات | Chicken Waste
حکام نے اس معاملے پر صحت عامہ کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے فضلے سے پرورش پانے والی مچھلیاں صارفین کے لیے صحت کے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ، حکام نے مچھلی فارموں میں استعمال ہونے والے چارے کی سخت نگرانی پر زور دیا۔ لہٰذا، غیر معیاری یا غلط طریقے سے سنبھالا گیا فضلہ سپلائی چین میں شامل ہونے سے روکا جا سکے گا۔
دوبارہ سامنے آنے والا غیر قانونی کاروبار | Chicken Waste
حکام نے بتایا کہ چند ہفتے قبل بھی اسی نوعیت کی بڑی کارروائی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود، یہ مبینہ کاروبار دوبارہ سامنے آ گیا۔ یوں، فضلے کی جمع آوری، منتقلی اور تلفی کے نظام پر نئے سوالات کھڑے ہو گئے۔
مزید برآں، متعلقہ اداروں سے سخت نگرانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، حکام بین الریاستی نقل و حمل پر بھی نظر رکھ رہے ہیں۔ لہٰذا، ایسے فضلے کو مچھلی فارموں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
