4 دن بینک بند رہنے کا امکان | Bank Strike Impact
حیدرآباد:۔ 11 ستمبر سے ملک کے مختلف حصوں میں بینک شاخوں کی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ وجہ بینک ملازمین کی ہڑتال، ہفتہ وار تعطیلات اور گنیش چتُرتھی کی چھٹی ہے۔
مزید برآں، صارفین کو مسلسل 4 دن معمول کی برانچ خدمات دستیاب نہیں رہ سکتی ہیں۔ لہٰذا اہم مالی معاملات پہلے مکمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
تعطیلات اور ہڑتال کی وجہ | Bank Strike Impact
یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے 11 ستمبر کو ایک روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ 12 ستمبر کو دوسرے ہفتہ کی تعطیل ہوگی۔
اسی دوران 13 ستمبر کو اتوار کی ہفتہ وار چھٹی ہوگی۔ بعد ازاں کئی ریاستوں میں 14 ستمبر کو گنیش چتُرتھی کے موقع پر بھی بینک بند رہیں گے۔
لہٰذا صارفین کو نقد رقم جمع کرانے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ رقم نکلوانے، چیک کلیئرنس اور قرض سے متعلق کام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
یونین کے مطالبات اور آئندہ لائحہ عمل | Bank Strike Impact
بینک یونینز کا بنیادی مطالبہ 5 روزہ ورکنگ ویک نافذ کرنا ہے۔ یونینز کا کہنا ہے کہ 2024 میں اصولی اتفاق ہوا تھا۔
تاہم اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ مزید برآں، یونینز نے نظرثانی شدہ پرفارمنس لنکڈ انسینٹو اسکیم کا جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یونینز نے پنشن سے متعلق مسائل کے حل پر بھی زور دیا۔ اسی دوران 9 ستمبر کو انڈین بینکس ایسوسی ایشن اور حکومتی نمائندوں نے مذاکرات کیے۔
تاہم بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ حکام نے برکس سربراہی اجلاس کے پیش نظر ہڑتال مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
یونینز نے واضح یقین دہانی نہ ملنے پر درخواست مسترد کر دی۔ چنانچہ یونینز نے 28 سے 30 ستمبر تک مزید 3 روزہ ہڑتال کا اعلان کیا۔
اس کے علاوہ 26 اکتوبر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔ اس کا زیادہ اثر سرکاری بینکوں پر پڑ سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا سمیت کئی سرکاری بینک متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم نجی بینکوں میں نسبتاً کم خلل متوقع ہے۔
ڈیجیٹل بینکاری خدمات جاری رہیں گی | Bank Strike Impact
ڈیجیٹل بینکاری خدمات معمول کے مطابق جاری رہنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ اور یو پی آئی خدمات دستیاب رہیں گی۔
یونو اور دیگر موبائل بینکنگ پلیٹ فارم بھی کام کرتے رہیں گے۔ تاہم طویل تعطیلات کے دوران بعض اے ٹی ایمز میں نقد رقم کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
