لنگر حوض چوری کیس، 6 ملزمان گرفتار | Attention Diversion Theft
حیدرآباد:۔ لنگر حوض پولیس نے چوری کے ایک اہم مقدمے میں مبینہ منظم گروہ کے 6 ارکان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران 13.5 تولہ مسروقہ سونے کے زیورات برآمد کیے۔ اس کے علاوہ Rs 7.4 لاکھ نقد رقم بھی ضبط کی گئی۔
پولیس نے ایک آٹو رکشا بھی قبضے میں لیا۔ مزید برآں، ایک موٹر سائیکل بھی برآمد ہوئی۔ کارروائی کے دوران 6 موبائل فون بھی ضبط کیے گئے۔ پولیس کے مطابق گروہ شہریوں کی توجہ ہٹا کر وارداتیں کرتا تھا۔
پولیس نے یہ تحقیقات 1 اگست کو درج ہونے والی شکایت کے بعد شروع کیں۔ ریٹائرڈ ایس بی آئی بینک منیجر، 71 سالہ داما موہن نے مقدمہ درج کرایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ واردات لنگر حوض پولیس حدود میں شاہ غوث ہوٹل کے قریب پیش آئی۔
ملزمان نے مبینہ طور پر متاثرہ شخص کی توجہ دوسری جانب مبذول کرائی۔ اس کے بعد انہوں نے 4 سونے کی چوڑیاں چرا لیں۔ مزید برآں، 3 سونے کی چینیں اور ایک لاکٹ بھی لے گئے۔ متاثرہ شخص اس واقعے میں 3 سونے کی انگوٹھیاں بھی کھو بیٹھا۔
سی سی ٹی وی سے سراغ ملا | Attention Diversion Theft
پولیس نے شکایت کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اسی دوران لنگر حوض پولیس نے قریبی تھانوں سے بھی رابطہ کیا۔ گولکنڈہ زون ٹاسک فورس نے بھی تحقیقات میں حصہ لیا۔
یہ مشترکہ تحقیقات بالآخر مشتبہ افراد تک پہنچ گئیں۔ پولیس نے شاہ غوث ہوٹل کے قریب ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ بعد ازاں 16 اگست کو تقریباً 12:12 بجے تمام 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس نے گرفتار افراد کی شناخت سید اسد، عمر خان، سید معین، اظہر حسین، محمد ابراہیم اور سید عبدالمجید کے نام سے کی۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے مبینہ طور پر اپنے کردار کا اعتراف کیا۔
تاہم پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گروہ کے بعض ارکان کے خلاف پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔ ان میں روڈی شیٹ اور مشتبہ افراد کی فہرست میں درج اندراجات بھی شامل ہیں۔
برآمدگی اور پولیس کارروائی | Attention Diversion Theft
کارروائی کے دوران پولیس نے تمام مسروقہ سونے کے زیورات برآمد کر لیے۔ ان زیورات کا مجموعی وزن 13.5 تولہ بتایا گیا۔ اس کے علاوہ Rs 7.4 لاکھ نقد رقم بھی قبضے میں لی گئی۔
پولیس نے ایک آٹو رکشا اور ایک موٹر سائیکل بھی ضبط کی۔ یوں ملزمان کے زیر استعمال گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئیں۔ مزید برآں، 6 موبائل فون بھی برآمد ہوئے۔
سب انسپکٹر رام بابو اور کرائم اسٹاف نے ملزمان کو گرفتار کیا۔ انسپکٹر اور ایس ایچ او بی وینکٹ رامولو نے کارروائی کی رہنمائی کی۔ ڈیٹیکٹو انسپکٹر کے ستیہ نارائنا بھی ٹیم کے ساتھ موجود رہے۔ اسی دوران ٹولی چوکی ڈویژن کے اے سی پی سید فیاض نے پوری کارروائی کی نگرانی کی۔
تحقیقات جاری، مزید انکشافات متوقع | Attention Diversion Theft
پولیس کے مطابق گرفتار 6 افراد ایک مبینہ منظم گروہ سے وابستہ ہیں۔ یہ گروہ شہریوں کی توجہ ہٹا کر چوری کی وارداتیں کرتا تھا۔ لہٰذا پولیس اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان کی بھی تلاش کر رہی ہے۔
تحقیقات 1 اگست کی شکایت سے شروع ہوئیں۔ چنانچہ سی سی ٹی وی تجزیے اور مختلف پولیس یونٹس کے تعاون سے ملزمان تک رسائی ممکن ہوئی۔ پولیس نے کہا کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔
