رشوت کیس میں پنچایت سکریٹری کو 2 سال قید | Warangal Bribery Case
حیدرآباد:۔ ورنگل کی خصوصی عدالت نے رشوت کے مقدمے میں شایام پیٹ گرام پنچایت کے سکریٹری کُرّو کماراسوامی کو 2 سال کی سخت قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ان پر 10,000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ یہ مقدمہ 2008 میں درج کیا گیا تھا۔
خصوصی عدالت کی جج اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشنز جج کے کشما دیش پانڈے نے 26 اکتوبر 2026 کو فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کماراسوامی کو قصوروار قرار دیا۔ مزید برآں، انہیں انسداد بدعنوانی قانون 1988 کی دفعات 7، 13(2) اور 13(1)(d) کے تحت سزا سنائی گئی۔
ویٹرنری ڈسپنسری کے کرایے کے بل پر رشوت | Warangal Bribery Case
انسداد بدعنوانی بیورو کے مطابق، پنچایت سکریٹری نے 6 ستمبر 2008 کو رشوت طلب کی تھی۔ یہ معاملہ شایام پیٹ میں ویٹرنری ڈسپنسری کے لیے استعمال ہونے والی عمارت کے کرایے کے بل سے متعلق تھا۔ بل کی رقم تقریباً 25,500 روپے تھی۔
مقدمے کے مطابق، کماراسوامی نے بل تیار کرنے اور شکایت کنندہ کے نام چیک جاری کرنے کے لیے 4,000 روپے رشوت لی تھی۔ یہ رقم بل کی ادائیگی کے عمل سے متعلق تھی۔ اسی معاملے پر انسداد بدعنوانی بیورو نے مقدمہ درج کیا تھا۔
عدالت کا فیصلہ اور سزا | Warangal Bribery Case
مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد خصوصی عدالت نے کماراسوامی کو قصوروار قرار دیا۔ عدالت نے انہیں 2 سال کی سخت قید اور 10,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ یہ فیصلہ 26 اکتوبر 2026 کو سنایا گیا۔
