حیدرآباد۔ سائبرآباد پولیس نے ایک بار پھر ایک عادی مجرم کے خلاف پریوینٹیو ڈیٹینشن ایکٹ یعنی پی ڈی ایکٹ نافذ کیا ہے جو مبینہ طور پر پولیس افسر بن کر لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ پولیس کمشنر ڈاکٹر ایم رمیش نے ناگاراجو رگھو ورما عرف ومشی عرف کرنل کارتیکیا سنگھ کے خلاف حراستی احکامات جاری کیے۔ اس کے بعد پولیس نے اسے چرلہ پلی سنٹرل جیل منتقل کر دیا۔
پولیس کے مطابق ملزم بار بار جرائم کا ارتکاب کر کے لوگوں میں خوف پیدا کر رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ پولیس افسر بن کر لوگوں کو دھوکہ دیتا اور اغوا، لوٹ مار اور دھمکیوں کی وارداتیں انجام دیتا تھا۔ چنانچہ پولیس کے مطابق وہ لوگوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن گیا تھا۔
عادی مجرم کا طریقہ واردات | PD Act
رگھو ورما کا تعلق آندھرا پردیش کے مغربی گوداوری ضلع سے ہے اور وہ ابتدا میں ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ آسان پیسہ کمانے اور پرتعیش زندگی گزارنے کے لیے اس نے جرائم کا راستہ اختیار کیا۔
پولیس کے مطابق وہ متاثرین کے سامنے خود کو پولیس افسر کے طور پر پیش کرتا تھا۔ پھر انہیں یقین دلاتا کہ مختلف پولیس اسٹیشنوں میں ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔ وہ قانونی کارروائی کی دھمکی دے کر اور مقدمات سے نکالنے کا وعدہ کر کے رقم وصول کرتا تھا۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ وہ نشانہ بنائے گئے افراد کو اغوا کر کے بندوق سے دھمکاتا اور ان سے نقدی لوٹ لیتا تھا۔
تیسری حراست، 2017 سے 14 مقدمات | PD Act
پولیس کے مطابق 2017 سے 2026 کے درمیان اس کے خلاف دھوکہ دہی، اغوا، ڈکیتی، بھتہ خوری اور آرمز ایکٹ کے تحت 14 فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ سائبرآباد پولیس اس سے قبل 2021 اور 2024 میں بھی اس کے خلاف پی ڈی ایکٹ نافذ کر چکی ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق جیل سے رہائی کے بعد بھی اس نے اپنی روش نہیں بدلی۔ پولیس افسر بن کر اغوا، بھتہ خوری اور لوٹ مار کرنے پر اس کے خلاف مزید 4 مقدمات درج کیے گئے۔
اسی دوران جگدگیری گٹہ پولیس نے تازہ مقدمات میں اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ پولیس نے اس بات کو سنجیدگی سے لیا کہ 2 سابقہ حراستوں کے باوجود وہ دوبارہ جرائم کی طرف لوٹ آیا۔ رمیش نے کہا کہ اس کی مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانے اور مزید جرائم کی روک تھام کے لیے یہ ایکٹ دوبارہ نافذ کیا گیا ہے۔
