بلدیاتی انتخابات میں مجلس کے 21 امیدوار | AIMIM Municipal Elections
حیدرآباد:۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے آندھرا پردیش کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے لیے انتخابی مہم تیز کردی ہے۔ پارٹی نے کڑپہ کارپوریشن کے میئر اور ہند پور میونسپلٹی کے چیئرپرسن کے عہدوں کے لیے امیدواروں کے پرچہ نامزدگی داخل کیے ہیں۔ مزید برآں، وجئے واڑہ اور کڑپہ کارپوریشنوں سمیت 5 میونسپلٹیوں میں مجلس کے مجموعی طور پر 21 امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
مجلس کے ارکان اسمبلی جعفر حسین معراج، محمد مبین اور ماجد حسین نے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلائی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل ریاض الحسن افندی نے بھی مہم میں حصہ لیا۔ یہ رہنما امیدواروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے حیدرآباد سے آندھرا پردیش پہنچے۔
اویسی کا صرف قابلِ کامیابی نشستوں پر مقابلے کا مشورہ | AIMIM Municipal Elections
آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے مجلس کے بعض رہنماؤں نے حال ہی میں حیدرآباد میں پارٹی صدر اسدالدین اویسی سے ملاقات کی۔ ان رہنماؤں نے انہیں بتایا کہ بلدیاتی انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے پارٹی کو کامیابی مل سکتی ہے۔ تاہم، اویسی نے تمام میونسپلٹیوں میں مقابلہ کرنے کے بجائے صرف ان وارڈوں اور ڈویژنوں پر توجہ دینے کا مشورہ دیا جہاں کامیابی کے امکانات یقینی سمجھے جارہے تھے۔
آندھرا پردیش کے رہنماؤں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ اس کے بعد پارٹی نے مختلف مقامات پر امیدواروں کا انتخاب کیا۔ یوں مجلس نے محدود نشستوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انتخابی حکمت عملی ترتیب دی۔
مختلف شہروں میں مجلس کے امیدوار | AIMIM Municipal Elections
مجلس نے کڑپہ کارپوریشن میں میئر کے عہدے کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے۔ اس کے علاوہ، وجئے واڑہ کارپوریشن کے 3 ڈویژنوں میں پارٹی کے امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ہند پور میونسپلٹی میں مجلس نے چیئرپرسن کے عہدے کے لیے امیدوار میدان میں اتارا ہے۔ مزید برآں، پارٹی وہاں 5 وارڈوں میں مقابلہ کر رہی ہے۔
ادونی میں مجلس کے امیدوار 7 وارڈوں میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔ رائے درگم میں پارٹی نے 3 وارڈوں کے لیے امیدوار نامزد کیے ہیں۔ اسی دوران، نندیال اور پینوکنڈہ میں بھی مجلس کے امیدوار ایک ایک وارڈ سے مقابلہ کر رہے ہیں۔
اس طرح مجلس اتحاد المسلمین آندھرا پردیش کے مختلف شہری علاقوں میں اپنی سیاسی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کی انتخابی مہم میں ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی شرکت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم، حتمی کامیابی کا انحصار ووٹروں کی حمایت اور انتخابی نتائج پر ہوگا۔
