تلنگانہ میں طویل خشک سالی کا خدشہ | Telangana Drought Crisis
حیدرآباد:۔ تلنگانہ میں اکتوبر سے شروع ہونے والی خشک سالی جیسی صورت حال جولائی 2027 تک جاری رہ سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہوئے عوام کو ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے جمعہ، 23 اکتوبر 2026 کو پرجا بھون میں ال نینو کے اثرات پر تفصیلی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو خبردار کیے بغیر اور انہیں تیاریوں میں شریک کیے بغیر خشک سالی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال 8 سے 10 ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اس لیے حکومت پانی، زراعت، بجلی اور عوامی ضروریات کے تحفظ کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا، وزراء، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل اور ضلعی کانگریس کمیٹیوں کے صدور شریک ہوئے۔ دیگر عوامی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں بارشوں کی کمی، ذخائر آب، زراعت، پینے کے پانی اور بجلی کی فراہمی پر ال نینو کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
پینے کے پانی کو ترجیح، فصلوں کی تبدیلی پر زور | Telangana Drought Crisis
ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ پانی کی قلت کے دوران پینے کے پانی کو آبپاشی پر ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کسانوں کو یاسنگی یعنی ربیع کے موسم میں زیادہ پانی استعمال کرنے والی دھان کی فصل سے گریز کا مشورہ دیا۔ اس کے بجائے انہوں نے خشک زمین میں اگنے والی فصلوں اور سبزیوں کی کاشت پر زور دیا۔
مزید برآں، وزیراعلیٰ نے رعیتو ویدیکا مراکز کے ذریعے کسانوں میں بیداری پیدا کرنے کی ہدایت دی۔ نائب وزیراعلیٰ بھٹی وکرمارکا کی سربراہی میں کابینی ذیلی کمیٹی بارش کی کمی سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ کمیٹی صورت حال کے مطابق ضروری اقدامات کی سفارش بھی کرے گی۔
حکومت نے ال نینو سے متعلق غلط معلومات کی روک تھام کے لیے رام کرشنا راؤ کو نوڈل افسر مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیراعلیٰ نے غریب مزدوروں کے لیے نئی امدادی اسکیم کا اشارہ دیا۔ یہ اسکیم سنکرانتی کے بعد شروع ہونے اور مئی تک 4 ماہ جاری رہنے کی تجویز ہے۔
حکومت نے خریف کے موسم کی فصلوں کے تحفظ اور ان کی خریداری کا بھی یقین دلایا ہے۔ اسی دوران، وزیراعلیٰ نے عوامی تعاون کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کووڈ-19 وبا کے دوران اختیار کیے گئے مشترکہ طریقہ کار کی مثال پیش کی۔
عوامی بیداری اور امدادی اقدامات | Telangana Drought Crisis
ریونت ریڈی نے تمام سیاسی جماعتوں، شہریوں اور میڈیا سے تعاون کی اپیل کی۔ حکومت میڈیا سے رابطے کے لیے ایک نوڈل افسر اور ٹول فری نمبر قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں خشک سالی کے دباؤ اور مہاراشٹر کے بعض علاقوں میں پانی کی راشن بندی کا حوالہ بھی دیا۔
ان کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہیں۔ تاہم، تلنگانہ میں پانی کے موجودہ دباؤ کے باعث احتیاطی اقدامات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا حکومت عوامی بیداری اور ہنگامی منصوبہ بندی کو ترجیح دے رہی ہے۔
حکومت نے جولائی میں بھی خشک سالی سے نمٹنے کی تیاری شروع کردی تھی۔ اس وقت ریاستی منصوبہ بندی بورڈ کے سابق نائب صدر جی چنا ریڈی کی سربراہی میں ماہرین کی کمیٹی نے تقریباً 803 کروڑ روپے کا ہنگامی منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں موسمی حالات کے مطابق فصلوں کی منصوبہ بندی کی سفارش کی گئی۔
کمیٹی نے خشک سالی برداشت کرنے والے بیج رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کی تجویز بھی دی۔ مزید برآں، ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی نظام پر 75 سے 90 فیصد تک سبسڈی دینے کی سفارش کی گئی۔ منصوبے میں چارے کے بینک، مویشیوں کے کیمپ اور گاؤں کی سطح پر ہنگامی منصوبے بھی شامل ہیں۔
مرکز سے خصوصی پیکیج کا مطالبہ | Telangana Drought Crisis
تلنگانہ اسمبلی نے مرکز سے 20,000 کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کرنے والی قرارداد منظور کی تھی۔ اس مطالبے میں روزگار ضمانت اسکیم کے تحت اضافی کام کے دن بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، ریاست نے ایف آر بی ایم کے تحت قرض لینے کی حد بڑھانے اور پانی، چارے اور فصلوں کے نقصان کے لیے مدد مانگی۔
بعد کی بعض تجاویز میں اس مطالبے کو 30,000 کروڑ روپے تک بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔ تاہم، ریاستی حکومت نے اپنے وسائل سے بھی ہنگامی اخراجات پورے کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ وہ مرکزی امداد کے انتظار میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہنا چاہتی۔
رپورٹس کے مطابق، پانی اور بجلی کے لیے 6,000 کروڑ روپے کا فنڈ زیر بحث آیا ہے۔ ضلعی کلکٹروں کو ہنگامی رقوم فراہم کی گئی ہیں۔ حکومت نے کھڑی فصلوں کو بچانے کے لیے مسلسل بجلی فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
تلنگانہ میں بارشوں کی کمی اور ال نینو کے اثرات | Telangana Drought Crisis
ال نینو بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں وقتاً فوقتاً اضافے کا قدرتی موسمیاتی رجحان ہے۔ یہ فضا کی گردش کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جنوب مغربی مانسون کی ہوائیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ تلنگانہ میں اس سال بارشوں کی تاخیر، طویل خشک وقفوں اور آبی ذخائر میں کم آمد کے خدشات بڑھے ہیں۔
بعض جائزوں کے مطابق، ریاست کے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی ال نینو کے عالمی اثرات کی نشاندہی کی ہے۔ اس رجحان کے اثرات تقریباً 100 ممالک تک محسوس کیے گئے ہیں۔
تلنگانہ میں 2026 کا جنوب مغربی مانسون معمول سے 17 فیصد کم بارش کے ساتھ ختم ہوا۔ ریاست میں 740.6 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں 615.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد اکتوبر میں بارشوں کی کمی مزید نمایاں ہوگئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق، اکتوبر کے دوران بارشوں میں تقریباً 95 فیصد کمی رہی۔
آبی ذخائر میں کمی اور بجلی کی بڑھتی طلب | Telangana Drought Crisis
ریاست کے بڑے آبی ذخائر میں پانی کی مقدار معمول سے کافی کم بتائی جارہی ہے۔ مختلف رپورٹس میں دستیاب پانی کا تخمینہ تقریباً 170 سے 209 ٹی ایم سی لگایا گیا ہے۔ اکتوبر میں عام طور پر یہ مقدار 460 سے 470 ٹی ایم سی کے قریب ہوتی ہے۔ مزید برآں، کئی آبی منصوبوں میں پانی کی سطح مجموعی گنجائش کے 20 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، کرشنا طاس کے ذخائر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 72 فیصد کمی ہوئی ہے۔ گوداوری طاس میں پانی کی مقدار تقریباً 40 فیصد کم بتائی گئی ہے۔ اسی دوران، ریاست کے تقریباً 30 لاکھ زرعی پمپ سیٹس میں سے 15 لاکھ کے خشک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس صورت حال نے کئی منڈلوں میں زیر زمین پانی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
پانی کی قلت اور زیادہ درجہ حرارت کے باعث بجلی کی طلب بھی بڑھ گئی ہے۔ 15 اکتوبر کو ریاست میں بجلی کی طلب 20,003 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ اکتوبر میں عام طور پر یہ طلب تقریباً 15,000 میگاواٹ رہتی ہے۔ مزید برآں، پن بجلی کی پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
زراعت، کسانوں کی آمدنی اور دیہی معیشت پر دباؤ | Telangana Drought Crisis
بارشوں کی کمی نے ریاست کی زراعت کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ خریف کے موسم میں کاشت کا رقبہ گھٹا ہے۔ بعض رپورٹس میں دھان کی کاشت میں تقریباً 11 لاکھ ایکڑ یا اس سے زیادہ کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، مختلف علاقوں اور موسموں کے اعداد و شمار میں فرق ہوسکتا ہے۔
کپاس اور دیگر فصلوں کو بھی نمی کی کمی کا سامنا ہے۔ فصلوں کے نقصان کا تخمینہ بعض جائزوں میں تقریباً 20,000 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ دوسری جانب، کچھ کسان سبزیوں، مرچ اور دیگر باغبانی فصلوں کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ بعض اضلاع میں باغبانی کا رقبہ بھی بڑھا ہے۔
تاہم، مجموعی زرعی آمدنی اور دیہی منڈیوں کی طلب دباؤ میں ہے۔ مختلف جائزوں میں 215 سے 358 منڈلوں میں خشک سالی جیسی صورت حال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پہلے کے بعض اعداد و شمار میں 315 متاثرہ منڈلوں کا ذکر بھی ہوا تھا۔ ان میں 101 منڈلوں کو شدید متاثرہ بتایا گیا تھا۔
زراعت تلنگانہ میں دیہی آمدنی اور صارفین کی خریداری کا اہم ذریعہ ہے۔ لہٰذا فصلوں کے نقصان سے کسانوں کے اخراجات اور آمدنی دونوں متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، آبپاشی کی کمی اور بجلی کے بڑھتے اخراجات بھی مشکلات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں زرعی سامان، گھریلو پائیدار اشیا اور دو پہیوں والی گاڑیوں کی خریداری کم ہوسکتی ہے۔ اس سے جی ایس ٹی وصولیوں، ٹریکٹرز کی فروخت اور خوراک کی قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ بعض حکومتی جائزوں میں طویل خشک سالی کی صورت میں ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو میں 1 سے 2 فیصد پوائنٹس تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مویشیوں کے تحفظ اور پانی کے متبادل ذرائع پر توجہ | Telangana Drought Crisis
خشک سالی کے دوران مویشیوں کے لیے چارے اور پانی کی فراہمی بھی اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔ اسی لیے ماہرین کی کمیٹی نے چارے کے بینک اور مویشیوں کے لیے خصوصی کیمپ قائم کرنے کی سفارش کی تھی۔ مزید برآں، گاؤں کی سطح پر ہنگامی منصوبوں کے ذریعے مقامی ضروریات کا جائزہ لینے کی تجویز دی گئی ہے۔
حیدرآباد میں تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے صاف کیے گئے استعمال شدہ پانی کو دوبارہ استعمال کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا ہے۔ تاہم، ال نینو کی شدت اور دورانیے کو مکمل طور پر قابو کرنا ممکن نہیں۔ اس کے باوجود، پانی کے بہتر انتظام، زیر زمین ذخائر کے تحفظ اور فصلوں کے انتخاب میں تبدیلی سے اس کے اثرات کم کیے جاسکتے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں حکومت کو پینے کے پانی، کھڑی فصلوں، بجلی اور مویشیوں کی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ لہٰذا ہنگامی منصوبوں پر بروقت عمل درآمد اہم ہوگا۔ آئندہ مہینوں میں بارشوں اور آبی ذخائر کی صورت حال ریاست کی زرعی اور دیہی معیشت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
