میڈی گڈہ بیراج کا دورہ، بی آر ایس کا مطالبہ | Medigadda Barrage Visit
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل کا ایک گروپ ہفتہ، 24 اکتوبر کو میڈی گڈہ بیراج کا دورہ کرے گا۔ یہ بیراج ضلع جے شنکر بھوپال پلی میں واقع ہے۔ اس گروپ میں گریٹر حیدرآباد اور متحدہ رنگاریڈی علاقوں کے منتخب نمائندے شامل ہوں گے۔ مزید برآں، یہ دورہ خشک سالی کے خدشات کے درمیان گوداوری کے پانی کے استعمال سے متعلق پارٹی کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔
ارکان اسمبلی اور کونسل کے ارکان صبح تقریباً 10:30 بجے بیراج پہنچنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے گروپ صبح گھٹکیسر میں جمع ہوگا۔ بعد ازاں، رہنما سابق وزیر ایرا بیلی دیاکر راؤ کی ورنگل میں واقع رہائش گاہ پر ناشتے کے لیے رکیں گے۔ اسی دوران، متحدہ ورنگل ضلع کے بعض سابق ارکان اسمبلی بھی ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔
گوداوری کے پانی کے استعمال پر زور | Medigadda Barrage Visit
بی آر ایس رہنماؤں اور ریٹائرڈ انجینئروں نے دعویٰ کیا ہے کہ گوداوری کا بڑی مقدار میں پانی پہلے ہی سمندر میں ضائع ہوچکا ہے۔ بعض رپورٹس میں اس مقدار کو تقریباً 734 سے 794 ٹی ایم سی بتایا گیا ہے۔ تاہم، یہ اعداد و شمار متعلقہ رپورٹس اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔
رہنماؤں اور ریٹائرڈ انجینئروں کا کہنا ہے کہ دریا میں موجودہ پانی کے بہاؤ کو اب بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق، یہ بہاؤ تقریباً 1.15 لاکھ کیوسک ہے۔ ان کے مطابق، میڈی گڈہ بیراج پر عارضی کوفر ڈیم تعمیر کرنے سے پانی اٹھانے کی گنجائش بڑھ سکتی ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس انتظام کے ذریعے روزانہ تقریباً 1.4 ٹی ایم سی پانی پمپ کیا جاسکتا ہے۔ مزید برآں، وہ اس تجویز کو پینے کے پانی اور آبپاشی کی ضروریات سے جوڑ رہے ہیں۔ ال نینو کے باعث خشک سالی کے خدشات بھی اس مطالبے کی اہم وجہ بتائے جارہے ہیں۔
بیراج کو نقصان پہنچنے کے معاملے کی نئی تحقیقات کا مطالبہ | Medigadda Barrage Visit
بی آر ایس نے 2023 میں بیراج کے ساتویں ستون کو پہنچنے والے نقصان کی نئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری آر ایس پروین کمار اس مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں پارٹی نے سابقہ تحقیقات اور پولیس کارروائی پر سوال اٹھائے ہیں۔
خاص طور پر، بی آر ایس نے پوچھا ہے کہ ستون نمبر 20 کے قریب ممکنہ دھماکے سے متعلق 2023 کی شکایت کو نامعلوم ملزم کے زمرے میں بند کیوں کیا گیا۔ پارٹی نے اس فیصلے کے پس منظر پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ مزید برآں، بی آر ایس نے الزام لگایا ہے کہ اس معاملے میں سیاسی محرکات کارفرما ہوسکتے ہیں۔
پارٹی کا موجودہ مطالبہ پانی کے استعمال اور بیراج کو پہنچنے والے نقصان، دونوں معاملات سے متعلق ہے۔ ایک جانب وہ عارضی کوفر ڈیم کے ذریعے گوداوری کے پانی کو استعمال کرنے پر زور دے رہی ہے۔ دوسری جانب، وہ بیراج کے نقصان کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
