تلنگانہ میں بارشوں کی شدید کمی | Telangana Rainfall Deficit
حیدرآباد:۔ تلنگانہ میں اکتوبر کے ابتدائی 3 ہفتوں کے دوران بارشوں میں 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ال نینو نے ریاست کے معمول کے موسمی نظام کو متاثر کیا ہے۔ اس دوران 12 اضلاع میں ایک بوند بارش بھی نہیں ہوئی۔ مزید برآں، باقی 21 اضلاع میں بھی بارش معمول سے بہت کم رہی۔
ریاست میں اکتوبر کے پہلے 3 ہفتوں کے دوران عام طور پر 75.6 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ تاہم، اس سال اب تک صرف 5.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس شدید کمی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی دوران زیر زمین پانی کی دستیابی پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔
بارشوں میں غیر معمولی کمی | Telangana Rainfall Deficit
تلنگانہ میں جنوب مغربی مانسون کی واپسی کے دوران اکتوبر میں مسلسل بارشیں ہوتی ہیں۔ تاہم، اس سال ال نینو نے معمول کے موسمی رجحان کو بدل دیا ہے۔ مزید برآں، حیدرآباد شہر میں بھی بارش کے لیے نمی میں معمولی اضافہ ضروری ہوتا ہے۔
حیدرآباد کو بھاگیہ نگر بھی کہا جاتا ہے۔ شہر میں اکتوبر 2020 کے دوران مجموعی طور پر 400 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ لیکن اس سال صورت حال بالکل مختلف ہے۔ چنانچہ بارشوں کی موجودہ کمی نے موسمی حالات کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے۔
12 اضلاع میں بارش کا نام و نشان نہیں | Telangana Rainfall Deficit
تلنگانہ کے 12 اضلاع میں مسلسل 21 دن تک بارش نہیں ہوئی۔ ان اضلاع میں ہنمکنڈہ، جے شنکر بھوپال پلی، جگتیال اور کریم نگر شامل ہیں۔ مزید برآں، میڑچل-ملکاج گیری، منچریال اور میدک بھی مکمل طور پر خشک رہے۔
اسی فہرست میں نظام آباد، پداپلی، سرسلہ، سنگاریڈی اور سدی پیٹ بھی شامل ہیں۔ یوں ریاست کے مجموعی 33 اضلاع میں سے 12 اضلاع بارش سے محروم رہے۔ دوسری جانب، باقی 21 اضلاع میں بھی بارش کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
فصلوں اور زیر زمین پانی پر خدشات | Telangana Rainfall Deficit
حکام ال نینو کے باعث گزشتہ چند دنوں سے بارش نہ ہونے پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، خشک موسم سے زمین میں نمی کم ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، ریاست کے کئی علاقوں میں پانی کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام کو امید ہے کہ مختلف اضلاع میں ہلکی بوندا باندی ہو سکتی ہے۔ تاہم، بارشوں کی مجموعی کمی کے اثرات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ لہٰذا آئندہ بارشیں فصلوں اور زیر زمین پانی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
