تلنگانہ کا مالی بحران، بی آر ایس نے اعداد و شمار پیش کردیے | Telangana Fiscal Crisis
حیدرآباد:۔ تلنگانہ میں اپریل سے ستمبر 2026 کے دوران 15,096.18 کروڑ روپے کا ریونیو خسارہ درج ہوا۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی ڈاکٹر داسوجو شراون نے یہ اعداد و شمار پیش کیے۔ ان کے مطابق، بجٹ میں اسی مدت کے لیے 6,857.76 کروڑ روپے کا ریونیو سرپلس متوقع تھا۔ انہوں نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) کے نصف سالانہ حسابات کا حوالہ دیا۔
تلنگانہ بھون سے جاری پریس نوٹ میں شراون نے حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی حکومت نے 6 ماہ میں ریاست کو سنگین مالی بحران سے دوچار کردیا۔ ان کے مطابق، سی اے جی کے اعداد و شمار نے اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ تخمینوں پر سوالات کھڑے کردیے۔ مزید برآں، انہوں نے انتظامی نااہلی اور ضرورت سے زیادہ قرض لینے کا الزام لگایا۔
شراون نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ریاستی خزانے کو کمزور کردیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آئینی آڈٹ اداروں کے سامنے غلط اعداد و شمار پیش کیے۔ ان کے مطابق، ریاست دیوالیہ پن کے قریب پہنچ رہی ہے۔ تاہم، یہ الزامات بی آر ایس رہنما کے بیان پر مبنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیادت کے لیے عوامی فائدے کے منصوبے اور مؤثر خیالات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق، محض سیاسی بیانات مسائل حل نہیں کرسکتے۔ مزید برآں، انہوں نے نئے ذرائع آمدنی تلاش نہ کرنے اور ریاستی اثاثے فروخت کرنے پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات تلنگانہ کے مستقبل کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا سکتے ہیں۔
بجٹ خسارہ، قرضوں کی حد اور پنشن پر دباؤ | Telangana Fiscal Crisis
شراون کے مطابق، مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینے صرف 180 دن میں الٹ گئے۔ انہوں نے اسے مقررہ ہدف سے 220.13 فیصد کی منفی انحراف قرار دیا۔ ان کے مطابق، ریاستی خزانے کو اوسطاً ہر ماہ تقریباً 2,516 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ مزید برآں، ستمبر تک بنیادی خسارہ 28,046.81 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ یہ پورے سال کے ہدف کا 75.49 فیصد ہے۔
شراون نے کہا کہ حکومت روزمرہ انتظامی اخراجات کے لیے مسلسل مارکیٹ سے قرض لے رہی ہے۔ ان کے مطابق، ریاست نے سالانہ 58,458.71 کروڑ روپے کی قانونی خالص قرض حد میں سے 44,612.16 کروڑ روپے استعمال کرلیے۔ یہ مجموعی حد کا 76.31 فیصد ہے۔ لہٰذا، اکتوبر 2026 سے مارچ 2027 تک صرف 13,846.55 کروڑ روپے باقی رہتے ہیں۔
انہوں نے نومبر تک ایف آر بی ایم حدود کی خلاف ورزی کے ممکنہ خطرے سے خبردار کیا۔ ان کے مطابق، ایسا ہونے پر ریاست کو نقدی کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ستمبر تک خالص عوامی قرض 35,536.27 کروڑ روپے تھا۔ مزید برآں، پبلک اکاؤنٹ کی واجبات 9,309.83 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔
سالانہ مختص رقم کا 96.60 فیصد | Telangana Fiscal Crisis
شراون نے بتایا کہ کنٹیجنسی فنڈ منفی 8.23 کروڑ روپے پر تھا۔ اسی دوران، خالص نقدی بیلنس بھی منفی 225.71 کروڑ روپے تک گرگیا۔ انہوں نے ان اعداد و شمار کو ریاست کے مالی دباؤ کی علامت قرار دیا۔
پنشن کے معاملے پر شراون نے کہا کہ حکومت سالانہ مختص رقم کا بیشتر حصہ خرچ کرچکی ہے۔ ان کے مطابق، 14,736.56 کروڑ روپے کے پنشن بجٹ میں سے 14,235.36 کروڑ روپے استعمال ہوئے۔ یہ سالانہ مختص رقم کا 96.60 فیصد ہے۔ چنانچہ، اگلے 6 ماہ کے لیے صرف 501.20 کروڑ روپے باقی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریونت ریڈی حکومت ریٹائرڈ ملازمین اور پنشن یافتگان کو ادائیگیاں کیسے کرے گی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت پنشن ادائیگیاں روک سکتی ہے یا بجٹ سے باہر قرض لے سکتی ہے۔ تاہم، یہ امکانات شراون نے بطور سوال اور خدشات پیش کیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تنخواہوں اور اجرتوں کے لیے مختص 48,358.21 کروڑ روپے میں سے 25,258.11 کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ یہ رقم مجموعی بجٹ کا 52.23 فیصد ہے۔
ترقیاتی اخراجات اور آمدنی کے اہداف میں کمی | Telangana Fiscal Crisis
شراون نے الزام لگایا کہ حکومت قرض کی رقم معمول کے اخراجات پر صرف کررہی ہے۔ ان کے مطابق، اس سے مستقل اثاثے بنانے کے لیے وسائل کم ہورہے ہیں۔ جنرل سیکٹر میں انتظامی سرمایہ جاتی اثاثوں کے لیے 2,343.64 کروڑ روپے مختص تھے۔ تاہم، ستمبر تک صرف 432.10 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جو بجٹ کا 18.44 فیصد ہے۔
سماجی شعبے میں بھی اخراجات کی رفتار کم رہی۔ اس شعبے میں اسکول، اسپتال اور فلاحی ہاسٹلز شامل ہیں۔ شراون کے مطابق، 19,214.83 کروڑ روپے کے بجٹ میں سے صرف 5,747.46 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ یہ مختص رقم کا 29.91 فیصد ہے۔ اس طرح، 70 فیصد سے زیادہ رقم استعمال نہیں ہوئی۔
انہوں نے ہر اسمبلی حلقے میں ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ ریذیڈنشیل اسکول قائم کرنے کے چیف منسٹر کے وعدے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق، ستمبر تک مجموعی اخراجات 1,34,852.30 کروڑ روپے رہے۔ ان میں ریونیو اخراجات 1,07,109.36 کروڑ روپے تھے، جو کل اخراجات کا 79.43 فیصد ہیں۔ مزید برآں، قرضوں اور پیشگی رقوم کی وصولی صرف 23.49 کروڑ روپے رہی۔ یہ 1,486.82 کروڑ روپے کے ہدف کا 1.58 فیصد ہے۔
مبینہ بے ضابطگیوں پر حکومت سے وضاحت طلب | Telangana Fiscal Crisis
شراون نے کہا کہ مالی سال کے نصف حصے تک حکومت کو کم از کم 50 فیصد متوقع آمدنی حاصل کرنی چاہیے۔ تاہم، تلنگانہ کی مجموعی ریونیو آمدنی 92,013.18 کروڑ روپے رہی۔ یہ 2,41,263.59 کروڑ روپے کے سالانہ ہدف کا صرف 38.14 فیصد ہے۔ ٹیکس آمدنی 82,552.96 کروڑ روپے رہی، جو 1,81,367.39 کروڑ روپے کے ہدف کا 45.52 فیصد ہے۔
غیر ٹیکس آمدنی بھی ہدف سے کافی کم رہی۔ شراون کے مطابق، 35,730.20 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 5,754.24 کروڑ روپے وصول ہوئے۔ یہ 16.10 فیصد بنتا ہے۔ ستمبر میں اس مد میں 278.60 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ مزید برآں، انہوں نے غیر قانونی ریت کی اسمگلنگ اور معدنی رائلٹی کی مبینہ بے ضابطگیوں پر حکومت سے وضاحت طلب کی۔
مرکزی امدادی گرانٹس 24,166 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں 3,705.98 کروڑ روپے رہیں۔ یہ سالانہ ہدف کا 15.34 فیصد ہے۔ شراون نے نئی دہلی کے مسلسل دوروں کے باوجود کم گرانٹس ملنے پر سوال اٹھایا۔ اسی طرح، زمینی محصول 11.15 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 0.21 کروڑ روپے رہا۔ یہ ہدف کا 1.90 فیصد ہے۔
ریاستی ایکسائز سے 27,668.48 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں 10,470.81 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ یہ 37.84 فیصد بنتا ہے۔ شراون نے سوال کیا کہ شراب کی دکانوں پر کاروبار کے باوجود سرکاری خزانے کی آمدنی کم کیوں ہے۔ انہوں نے مبینہ شراب مافیا کے ذریعے عوامی آمدنی میں خردبرد کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔
اسٹامپس اور رجسٹریشن سے 19,540.54 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں 9,033.36 کروڑ روپے وصول ہوئے۔ یہ ہدف کا 46.23 فیصد ہے۔ شراون نے اس کمی کا تعلق حیدرآ کے انہدامی اقدامات اور سیکشن 22 اے کی پالیسی سے متعلق الجھن سے جوڑا۔ ان کے مطابق، ان عوامل نے حیدرآباد کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔
سی اے جی رپورٹ، قرضوں کی تفصیلات اور وائٹ پیپر کا مطالبہ | Telangana Fiscal Crisis
شراون نے سی اے جی رپورٹ کے صفحہ 9 کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق، آڈیٹر نے درج کیا کہ ریاستی ضمانتوں، سرکاری اداروں کے ذریعے مستقبل کی آمدنی کو قرضوں کے لیے مختص کرنے اور ممکنہ واجبات کی معلومات حکومت سے موصول نہیں ہوئیں۔ رپورٹ میں پبلک اکاؤنٹ سے لیے گئے قرضوں کے بارے میں بھی یہی بات درج تھی۔
شراون نے الزام لگایا کہ آئینی آڈٹ ادارے کو یہ معلومات فراہم نہ کرنا سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے اسے بجٹ سے باہر قرض لینے کے مبینہ بڑے اسکینڈل سے جوڑا۔ تاہم، اس الزام کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ متن میں موجود نہیں ہے۔
بی آر ایس نے مطالبہ کیا کہ حکومت بجٹ سے باہر قرضوں، ریاستی ضمانتوں اور پبلک اکاؤنٹ کی واجبات سے متعلق تمام معلومات فوری طور پر عوام اور سی اے جی کے سامنے رکھے۔ پارٹی نے قانون ساز اسمبلی میں ایک جامع وائٹ پیپر پیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس دستاویز میں حکومت کو بتانا چاہیے کہ وہ مالی دباؤ کے باوجود انتظامی امور کیسے چلائے گی۔ مزید برآں، اسے ملازمین اور پنشن یافتگان کے حقوق کے تحفظ کا منصوبہ بھی واضح کرنا چاہیے۔
بی آر ایس کے مطابق، حکومت کے پاس قرض لینے کی قانونی گنجائش کا صرف تقریباً 24 فیصد باقی ہے۔ اسی طرح، پنشن بجٹ کا صرف 3.40 فیصد آئندہ 6 ماہ کے لیے بچا ہے۔ پارٹی نے چیف منسٹر سے عوامی رقم کو ایسے تشہیری منصوبوں پر خرچ کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا جنہیں وہ گمراہ کن قرار دیتی ہے۔ اس سلسلے میں اس نے ’’تلنگانہ رائزنگ‘‘ مہم کا خاص طور پر ذکر کیا۔
